Al-Risala · August 1983 · page 7

لندن میں چند روز

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۷

لندن میں چند روز

باربیڈوز جاتے ہوئے میں چند دن کے لئے لندن میں ٹھہرا۔ لندن میں میرا قیام ۲۳ مارچ کی شام سے لے کر ۲۹ مارچ ۱۹۸۳ کی صبح تک رہا۔ اس دوران میں جو مشاہدات و تاثرات سامنے آئے ، ان کو مختصراً یہاں بیان کیا جاتا ہے ۔

لندن کے ہوائی اڈہ ہیتھرو پر میں اترا تو آسمان میں بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی بارش ہو رہی تھی ۔ معلوم ہوا کہ ابھی پچھلے دن آسمان کھلا ہوا تھا اور گرمی کا سا موسم ہو رہا تھا کہ اچانک برسات جیسا موسم ہو گیا ۔ یہ انگلستان کی عام موسمی خصوصیت ہے۔ یہاں کا موسم تقریباً سال بھر غیر یقینی رہتا ہے ۔ وہ بار بار اچانک طور پر بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ یہاں کے موسم کو ادبی زبان میں نقضِ فائَن (Treacherous Weather) کہتے ہیں ۔ ابھی گرمی تھی ، ابھی ٹھنڈ آگئی۔ ابھی آسمان کھلا ہوا تھا ، ابھی بادل چھا گیا ۔

انگریز قوم کو بار بار اپنے آپ کو موسم کے موافق بنانا پڑتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کی تمام سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جائیں ۔ انگریزی قوم میں حیرت انگیز طور پر یہ صلاحیت ہے کہ وہ بہت جلد اپنے آپ کو بدلتے ہوئے حالات کے موافق کر لیتی ہے ۔ اور اس طرح اپنے مفادات کو محفوظ رکھتی ہے ۔ جیسا کہ اس نے استعماری نظام کے خاتمہ کے بعد کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انگریزی قوم کی اس مفا ہمانہ خصوصیت کی کم از کم ایک وجہ ، موسموں کی مذکورہ حالت بھی ہے جس نے انہیں زندہ رہنے کے لئے حالات سے موافقت کا سبق دیا ۔ ایک انگریز عام طور پر خلاف مزاج بات پر مشتعل نہیں ہوتا ۔ وہ گرم بات کا بھی ٹھنڈے طریقے سے استقبال کرتا ہے ۔ انگلستان کی موسمی صورت حال نے انگریزوں کی اخلاقیات پر گہرا اثر ڈالا ہے ۔

میں ۲۳ مارچ کو لندن پہنچا تو اس کے صرف ایک دن پہلے سر چرڈاٹن برو کی فلم ” گاندھی “ کو برٹش اکیڈمی کا خصوصی انعام دیا گیا تھا۔ اور اس کی شاندار تقریب منائی گئی تھی ۔ اس فلم کو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ہیرو آف پیس (Hero of Peace) کی زندگی کو دیکھنے کی خاطر بے پناہ لوگ سنیما ہاؤس کی کھڑکیوں پر ٹکٹ لینے کے لئے لمبی لمبی لائن لگا رہے ہیں ۔ امریکہ میں یہ فلم اب تک ۳۰ ملین

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page