Gurinder Singh Mandla: Broke school rules
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۱۰
لندن کا اخبار ٹائمز ۳۲ صفحات پر نکلتا ہے ۔ اس کی ۲۵ مارچ ۱۹۸۳ کی اشاعت میں ایک باتصویر خبر صفحہ اول پر درج تھی جس کی مزید تفصیلات نے صفحہ ۲۰ کے تہائی حصہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔ خبر کا عنوان تھا :
Gurinder Singh Mandla: Broke school rules
ایک سکھ نوجوان گورندر سنگھ منڈلا (۱۸ سال) پارک گروو اسکول (برمنگھم) میں پڑھتا تھا۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسٹرلی (Audley Dowell Lee) نے اس کی پگڑی پر اعتراض کیا۔ کیونکہ وہ اسکول یونیفارم کے خلاف تھا۔ سکھ طالب علم نے اس کی تعمیل نہیں کی ۔ چنانچہ ہیڈ ماسٹر نے اس کا نام اسکول سے خارج کر دیا ۔
اس کیس کو فیڈریشن آف سکھ آرگنائزیشن نے اپنے ہاتھ میں لیا ۔ انہوں نے اس پر پچاس ہزار پونڈ خرچ کئے اور پانچ سال تک مقدمہ لڑتے رہے ۔ وہ عدالت سے اپنا مقدمہ ہار گئے۔ تا ہم وہ ہمت نہیں ہارے ۔ اب انہوں نے اپنا مسئلہ برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں پیش کیا۔ ہاؤس آف لارڈز نے کافی بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ دیا کہ برطانیہ کے قانون نسلی تعلقات کے تحت سکھ طالب علم کو پگڑی پہننے سے روکا نہیں جاسکتا ۔ کیونکہ )Race Relations Act( یہ ان کے خلاف ایک امتیاز (Discrimination) کا معاملہ ہوگا ۔ اس فیصلہ سے ان تمام سکھوں کو فائدہ پہنچے گا جو دو لاکھ پچاس ہزار کی تعداد میں برطانیہ میں آباد ہیں۔ انگریز اپنی روایات کے بے حد پابند ہیں ۔ وہ اسکول یونیفارم کے معاملہ میں اس قسم کی خلاف ورزی کو سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ مگر قانون کی موجودگی میں وہ دھاندلی کا طریقہ اختیار نہیں کرسکتے تھے ۔ اس لئے سخت ناپسندیدگی کے باوجود انہوں نے سکھوں کو یہ اجازت دیدی کہ وہ اسکول یونیفارم کی خلاف ورزی کریں ۔ اور پگڑی پہن کر اسکول میں آئیں ۔ اصول کو نہ توڑنے کا یہی مزاج ہے جو کسی قوم کو کرپشن سے بچاتا ہے۔ اصول کو توڑنا روایت کو توڑنا ہے۔ اگر آپ غیروں کی ضد میں اصول توڑیں تو اپنوں کے درمیان بھی آپ اصول کا احترام باقی نہیں رکھ سکتے۔ انگریزوں نے جب عراق پر قبضہ کیا تو اس زمانہ کا ایک لطیفہ ہے جو انگریزی قوم کے مزاج کو بہت خوبی کے ساتھ بتاتا ہے ۔ سرپرسی کاکس (Sir Percy Cox) بصرہ میں انگریز گورنر کی حیثیت سے مقیم تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صبح کے وقت قریب کی مسجد سے موذن نے فجر کی اذان دی۔ سرپرسی کاکس کے لئے یہ نئی آواز تھی ۔ اس نے متعجب ہو کر پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ بتایا گیا کہ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues