Al-Risala · August 1983 · page 20

She never smiled in public

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۲۰

خواب گاہ تک پہنچ گیا جہاں وہ اکیلی تھیں تو لوگوں نے سوال کرنا شروع کیا کہ فلپ صاحب کہاں تھے : Where was Philip اس کے بعد اخباروں نے انکشاف کیا کہ چونکہ مسٹر فلپ (ملکہ کے شوہر) سوتے وقت خراٹا لیتے ہیں اس لئے ان کو ملکہ کے کمرہ میں سونے کی اجازت نہیں ۔ وہ رات کے وقت دوسرے کمرہ میں سوتے ہیں ، کالم نگار اپنی رپورٹ ان الفاظ پر ختم کرتا ہے :

It must be a hard life for the royal family these days trying to keep sane, trying to be both human and royal at the same time. The more they try to maintain that dignity in public, the more hysterical they are likely to get in private. And with cooks ready to tell all to the press, they have no place to laugh or cry. It is a dilemma of our times. شاہی خاندان کے لئے یقیناً یہ بڑی سخت زندگی ہے کہ ان حالات میں وہ اپنے آپ کو اعتدال پر قائم رکھیں ۔ ایک ہی وقت میں وہ عام آدمی بھی ہوں اور بادشاہ بھی ۔ عوام میں وہ جتنا زیادہ اپنی شاہی عظمت کو باقی رکھنے کی کوشش کریں گے اتنا ہی زیادہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی میں جذباتی بن جائیں ۔ ایسے باورچیوں کے ساتھ جو پریس کو ہر بات بتانے کے لئے تیار رہتے ہیں ، ان کے لئے نہ ہنسنے کا موقع باقی رہا ہے اور نہ چیخنے کا ۔ یہ ہمارے وقت کی ایک دو طرفہ مشکل ہے ۔ ایک ملکہ یا شہزادہ باہر سے دیکھنے میں لوگوں کو پرکشش معلوم ہوتے ہیں ۔ مگر ان کو اندر سے دیکھئے تو صورتِ حال بالکل مختلف ہوگی ۔

ہفتہ وار ٹائم (نیویارک) میں خطوط کے کالم میں شاہی تعاقب (Royal Hunt) کے عنوان کے تحت ایک خاتون لکھتی ہیں :

When I was little, I dreamed of marrying a prince. After reading about how the press pursues the princess of Wales I realize how nice it is that my prince is a pharmacist. جب میں چھوٹی تھی تو میں کسی شہزادہ سے شادی کرنے کا خواب دیکھتی تھی ۔ اب یہ پڑھنے کے بعد کہ پریس کس طرح شہزادی ویلز کا پیچھا کرتا ہے ، میری سمجھ میں آیا کہ یہ کتنا اچھا ہے کہ میرا " شہزادہ “ ایک دوا ساز ہے ۔

شاہی ادارہ کو باقی رکھ کر برطانی لوگ زبردست فائدہ اٹھار ہے ہیں ۔ شاہ اور ملکہ کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page