Al-Risala · August 1983 · page 26

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶

اوپر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑے۔ ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو! اللہ کی لعنت ہے ظالموں کے اوپر۔ ان لوگوں کے اور جو اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ وہ لوگ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے انہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے، ان پر دہرا عذاب ہوگا۔ وہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا۔ اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹے میں رہیں گے۔ ۱۸-۲۲ "خدا پر جھوٹ گھڑنے" سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لئے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتا ہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں ۔ مگر لوگوں کی سطحیئت اور ظاہر پرستی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سننے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغام بر کا معمولی ہونا انہیں نظر آتا ہے مگر پیغام کا غیر معمولی ہونا نہیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کر دیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔

اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوئی کی نفسیات ہے۔ لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار و جبار کا خوف نہیں۔ اس لئے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہو پاتے۔ اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہو جائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکاڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیانا یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انہوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے ۔ قیامت کی ہولنا کی اچانک انہیں سنجیدہ بنا دے گی ۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page