Al-Risala · August 1983 · page 44

” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴

اَلَا اِنَّ ثَمُوْدَا كَفَرُوۡا رَبَّهُمۡ ؕ اَلَا بُعۡدًا لِّثَمُوْدَ اور اے میری قوم ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے۔ پس اس کو چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں کھائے۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ ورنہ بہت جلد تم کو عذاب پکڑلے گا۔ پھر انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے۔ تب صالح نے کہا کہ تین دن اور اپنے گھروں میں فائدہ اٹھالو۔ یہ ایک وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا۔ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ بیشک تیرا رب ہی قوی اور زبردست ہے۔ اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک ہولناک آواز نے پکڑلیا پھر صبح کو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ جیسے کہ وہ کبھی ان میں بسے ہی نہیں۔ سنو، ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو، پھٹکار ہے ثمود کے لئے ؂۶۸ - ۶۷ حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیونکہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لئے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لئے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لئے حسی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارہ میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لئے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کر کے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کر دئے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتیٰ کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لئے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمال مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیا اور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page