” جہان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۴۶
ہیں ، ٹھیک انہیں سوالات کی موجودگی میں دوسری باتوں کو مان لیتے ہیں اور ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا نظام چلاتے ہیں ۔ پھر اسی قسم کی کمتر واقفیت کی بنا پر قیامت کے بارے میں کیوں شبہہ کیا جانے لگے ۔
اور اللہ ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے ۔ (وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ) اس آیت کی تفسیر عام طور پر یہ مشہور ہو گئی ہے کہ یہ خدا ہی کے علم میں ہے کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی ۔ مگر آیت کے الفاظ میں اس تفسیر کی کوئی بنیاد موجود نہیں ۔
آیت کے الفاظ بالکل عام ہیں ۔ " رحم کے اندر کیا ہے ، یہ خدا ہی کو معلوم ہے" ۔ ان الفاظ میں ہر وہ بات آسکتی ہے جو پیدا ہونے والے کی زندگی اور مستقبل سے متعلق ہو ۔ یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے جس کی بنا پر اس کو مذکر اور مونث کے ساتھ خاص کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کی قدیم تفسیروں کا تعلق ہے ۔ اس سلسلہ میں عام طور پر دو باتیں کہی جاتی رہی ہیں ۔ یہاں ہم صرف ایک تفسیر کا حوالہ نقل کرتے ہیں ۔
(ويعلم ما فی الارحام) ای من ذکر او انثی ، خدا ہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے ، یعنی مذکر شقی او سعید صفوۃ التفاسیر ، محمد علی الصابونی یا مونث ، برا یا بھلا ۔ اس آیت میں مذکر اور مونث کا قصد زیادہ تر عوامی ذوق کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ عوام کو چونکہ اس سے بہت زیادہ دلچسپی ہوتی ہے کہ ان کے یہاں پیدا ہونے والی اولاد لڑکا ہے یا لڑکی ، اس لئے یہ تفسیر مشہور ہو گئی ۔ ورنہ خود قدیم تفاسیر میں شقی اور سعید کے الفاظ بھی موجود ہیں ۔ یعنی یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ پیدا ہونے والا برا ہو کر برا نکلے گا یا بھلا ثابت ہوگا ۔ "برا اور بھلا" کے الفاظ انتہائی عام اور وسیع ہیں۔ ان میں انسان کی زندگی سے متعلق ہر بات موجود ہے ۔ انسان زیادہ عمر کو پہنچ کر جو کچھ بنتا ہے وہ سب ان دو لفظوں میں شامل ہے ۔
مذکر اور مونث کے بارہ میں پہلے بھی انسان اندازہ کرتا تھا اور موجودہ زمانہ میں مزید اضافہ کے ساتھ اس کا اندازہ کرنا ممکن ہو گیا ہے ۔ تا ہم اصل بات بدستور انسان کے لئے لامعلوم ہے ۔ اور وہ یہ کہ مکمل معنوں میں پیدا ہونے والے کے بارہ میں پیشین گوئی کی جائے کہ وہ کیسا عورت یا مرد ثابت ہوگا اور کیسا عورت یا مرد ثابت نہیں ہوگا ۔ رحم مادر کا یہ راز اب بھی انسان کے لئے لامعلوم ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues