Al-Risala · January 1983 · page 39

Ladies and Gentlemen

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۹

۲۹ اگست کو راقم الحروف کے اعزاز میں فندق باب المدینہ میں ایک عشائیہ دیا گیا۔ اس عشائیہ میں وزراء اور سفراء شریک تھے، طرابلس میں ہندوستان کے سفیر مسٹر ارجن اسرانی نے بھی شرکت کی۔ اس قسم کی تقریب شرکاء موتمر میں راقم الحروف کے سوا اور کسی کے لئے منعقد نہیں کی گئی۔ دوسرے معززین کے علاوہ ڈاکٹر طاہر محمد الشوھدی الامین العام للہيئة المشتركة لتاسيس المراكز الثقافية الاسلامیہ) بھی اس موقع پر موجود تھے۔

طرابلس کا سوق المجمع (سپر بازار) دیکھا۔ اس طرح کے یہاں چار بازار ہیں، نئی دہلی کے سپر بازار کے مقابلہ میں یہاں کے سوق المجمع کی عمارت کافی زیادہ شاندار رکھتی۔ کئی منزلہ عمارت میں خود کار سیڑھیوں کا نہایت عمدہ انتظام تھا۔ حساب کتاب کرنے کے لئے جدید طرز کی درآمد شدہ مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ تاہم خریداری اور سامان کے اعتبار سے وہ نئی دہلی کے سپر بازار سے کم نظر آيا، اس فرق کے ساتھ کہ دہلی میں تمام سامان ملکی ہوتا ہے اور یہاں تمام سامان باہر سے درآمد کیا ہوا ۔

طرابلس کا متحف (میوزیم) کافی بڑا ہے۔ مگر وہ ترکوں کے ایک قدیم قلعہ میں قائم کیا گیا ہے اس لئے عمارت کے اعتبار سے اس میں وہ خوبیاں نہیں ہیں جو اس عمارت میں ہوتی ہیں جو خاص طور پر میوزیم کے مقصد سے بنائی گئی۔ مثال کے طور پر لکھنو کا میوزیم مقابلہ کافی چھوٹا ہونے کے باوجود عمارت کے اعتبار سے طرابلس کے میوزیم سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

ایک ہندوستانی عالم کے ساتھ عرب دنیا میں بعض اوقات یہ صورت حال پیش آتی ہے کہ وہ بظاہر عربی بولتا ہے مگر عرب اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ عربی لفظ کو اس کے اردو مفہوم میں استعمال کرتا ہے۔ اگر چہ عربی زبان کے بہت سے الفاظ اردو زبان میں رائج ہیں۔ اس لحاظ سے اردو دانی کو عربی دانی کے لئے کارآمد ہونا چاہئے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی کے اکثر الفاظ کے معنی اردو میں آکر بدل گئے ہیں۔

مثلاً اردو میں جس چیز کو ہم انقلاب کہتے ہیں، اس کے لئے عربی میں ثورہ کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں ثورہ کے معنی ریوولیوشن کے ہیں اس کے مقابلہ میں انقلاب کا لفظ اس مفہوم کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کو انگریزی میں (Coup) کہتے ہیں۔ ہندوستان کے ایک مصنف نے اپنی کتاب کا نام الاقدار الاسلامیہ رکھا ہے، اس سے ان کی مراد اسلامک ویلوز ہے۔ مگر ویلو (Value) کے لئے عربی میں قیمت کا لفظ استعمال ہوتا ہے نہ کہ قدر کا۔ اگر چہ قیمت اور قدر دونوں ہی عربی الفاظ ہیں۔ تاہم عربی میں اس کو القیم الاسلامیہ کہیں گے نہ کہ الاقدار الاسلامیہ ۔ وہ چیز جس کو اردو میں استحصال کہا جاتا ہے اس کے لئے عربی میں استغلال کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page