Al-Risala · November 1983 · page 5

کلیسا کی مثال

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۵

اتنے شواہد آپ کی نبوت کی تصدیق پر جمع ہو چکے ہیں کہ اب باعتبار حقیقت کسی کے لئے اس پر شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی تقابل کے لئے ملاحظہ ہو ڈاکٹر موریس بوکیل کی مندرجہ ذیل کتاب بائبل ، قرآن اور سائنس :

(The Bible, The Quran, and Science)

پھر کیا وجہ ہے کہ جن اسباب کی بنا پر کلیسا نے گلیلیو کو مان لیا، انہیں اسباب کی موجودگی میں وہ حضرت محمد کو نہیں مانتا۔ وہ بدستور آپ کو بناوٹی نبی (False Prophet) کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ وہ فرق ہے جو باعتبار نوعیت دونوں شخصیتوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ گلیلیو کو ماننا صرف ایک فنی غلطی کا اعتراف ہے۔ جب کہ حضرت محمد کو ماننا اپنے پورے وجود کی نفی کے ہم معنی ہے۔

گلیلیو ایک فلکیات داں تھا۔ اس کا کیس فلکیاتی علم کا کیس تھا۔ جب کہ حضرت محمد ایک پیغمبر تھے اور آپ کا کیس خدا کی پیغمبری کا کیس۔ یہ فرق دونوں کے معاملہ کو نوئی طور پر ایک کو دوسرے سے جدا کر دیتا ہے۔ گلیلیو کو ماننا صرف ایک علمی سچائی (Scientific truth) کو ماننا ہے۔ اس کے برعکس حضرت محمد کو ماننا ایک مذہبی سچائی (Religious truth) کو ماننا۔ گلیلیو کو ماننا کلیسا کے لئے ایک ایسے خارجی واقعہ کو ماننا تھا جس سے اس کے اپنے اوپر کوئی زد نہیں پڑتی تھی۔ اس کا اپنا مخصوص ڈھانچہ اس کے بعد بھی بدستور برقرار رہتا تھا۔ اس کے برعکس حضرت محمد کو ماننا ایک ایسے واقعہ کو ماننا تھا جس کا براہ راست تعلق اس کے اپنے ڈھانچہ سے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد کو مانتے ہی پا پائیت اپنے وجود کا جواز کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد کلیسا کا پورا محل اچانک زمین پر گر پڑتا ہے۔

حضرت محمد نے توحید کی تعلیم دی جب کہ موجودہ کلیسا کا سارا ڈھانچہ تثلیث کے عقیدہ پر قائم ہے۔ حضرت محمد نے حضرت مسیح کو خدا کا پیغمبر بتایا جب کہ کلیسا حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اپنا مذہبی قلعہ تعمیر کئے ہوئے ہے۔ حضرت محمد نے ذاتی عمل کو نجات کی بنیاد قرار دیا، جب کہ کلیسا کا سارا مذہبی ڈھانچہ کفارہ کے عقیدہ پر قائم ہے ، وغیرہ۔ ایسی حالت میں کلیسا کیسے حضرت محمد کو مان لے ۔ گلیلیو کا اقرار کرنے کے بعد بھی کلیسا کی حیثیت بدستور باقی رہتی تھی۔ جب کہ حضرت محمد کا اقرار کلیسا کے لئے خود اپنے انکار کے ہم معنیٰ ہے۔ اور بلاشبہ دنیا میں ایسے لوگ سب سے زیادہ کم پائے جاتے ہیں جو اس قسم کی جرأت کا ثبوت دے سکیں۔ کلیسا صرف اپنی نفی کی قیمت پر حضرت محمد کو مان سکتا ہے۔ اور اس دنیا میں کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر کسی سچائی کو ماننے کے لئے تیار ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page