Al-Risala · November 1983 · page 38

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸

سب سے پہلا اور بنیادی کام جدید تقاضوں کے لحاظ سے اسلامی لٹریچر کی تیاری اور اس کی اشاعت ہے مجلس عالمی کے اس اجتماع میں تین زبانیں رائج تھیں عربی، انگریزی، فرانسیسی میں نے اپنے خیالات انگریزی زبان میں پیش کئے ۔ مقابل کے صفحہ پر میری تقریر کا متن نقل کیا جا رہا ہے۔

بعض ممبروں کا خیال تھا کہ موجودہ مسلمان دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں دشمنان اسلام کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلے ہم کو انہیں بچانے کی فکر کرنا چاہئےنہ یہ کہ ہم مسلمانوں کی تعداد بڑھانے میں لگ جائیں۔ میں نے کہا کہ دعوت اسلام کا مسئلہ مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ شہادت کی ذمہ داری ادا کرنے کا مسئلہ ہے۔ حضرت موسیٰ جب مصر میں تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر وہاں کی قومی حکومت سخت مظالم کر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے ایک طرف بنی اسرائیل کو بچانے کی فکر کی ، اسی کے ساتھ عین اسی وقت انھوں نے فرعون اور اس کی قوم کو حق کا پیغام دیا۔ سب سے اہم بات جو جاتے کی ہے وہ یہ کہ ختم نبوت کے بعد مسلمان مقام نبوت پر ہیں۔ ان پر خاص طور پر ان کے علماء پر یہ لازم ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر یہ ذمہ داری ان سے ساقط نہیں ہو سکتی۔

تاہم بحثوں اور گفتگوؤں میں لوگوں کا رخ دعوت سے زیادہ دفاع کی طرف رہا۔ آجکل پوری مسلم دنیا میں یہ حال ہے کہ دشمنان اسلام،، کے پیدا کردہ مسائل سے لوگوں کے ذہن اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ وہ دعوت کے پہلو پر زیادہ سوچ نہیں پاتے۔ حریف کو مدعو کی نظر سے دیکھنا ان کے لئے مشکل ہوگیا ہے ایک بار اس موضوع پر گفتگو تھی کہ جہاد سے مراد اصلاً جہاد دعوت ہے نہ کہ قتال۔ اس پر ایک صاحب (مبارک قسم اللہ زاید سوڈانی) بولتے ہوئے کافی جذباتی ہو گئے۔ ان کے نزدیک اس قسم کی باتیں قتال سے فرار کا فلسفیانہ بہانہ تھیں۔ تقریر کے دوران ان کی زبان سے یہ جملہ نکلا : این سیفنا الذی اخفيناه ؟ این روح قتالنا الذی اهملنا ۵ - یہ جملہ کہتے ہوئے وہ بے اختیار روپڑے اور آگے اپنی تقریر جاری نہ رکھ سکے۔

محض لوگوں نے شدت کے ساتھ اس پہلو کی طرف زور دیا کہ ہم لوگ بات کرنے میں بہت آگے ہیں۔ مگر عمل کرنے میں اتنا ہی پیچھے ہیں۔ ایک صاحب نے بڑے جوش کے ساتھ کہا: کلنا جيد في النظري وكلنا عاجز في التطبيق میرا نقطہ نظریہ تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی خود نظریہ ہی واضح طور پر سامنے نہ آسکا۔ اگر فی الواقع صحیح اور قابل عمل نظریہ لوگوں کے سامنے آجا ئے تو عمل

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page