Al-Risala · November 1983 · page 40

Your freedom ends where my nose begins

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۳، صفحہ ۴۰

کرنے والوں کی کمی نہ ہوگی۔

موجودہ ۳۶ رکنی عالمی کونسل میں دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک علی آبی وہ جاپان سے آئے ہیں۔ وہ نومسلم ہیں۔ پہلے وہ سرکاری افسر تھے اب خود اپنا ایک قانونی ادارہ چلا رہے ہیں۔

علی آبی نے بتایا کہ ایک صاحب کسی عرب ملک کی طرف سے مبعوث ہوکر جاپان میں تبلیغ کے لئے آئے۔ تین سال تک وہ تبلیغ کرتے رہے۔ مگر کسی نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد ایک روز ایسا ہوا کہ انھوں نے کچھ جاپانیوں کے سامنے تقریر کی اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی۔ حدیث یہ تھی۔

عن ابی ھریرة ، قال جاء رجل الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ من احق الناس بحسن صحابتی قال امك۔ قال ثم من قال امك۔ قال ثم من قال امك۔ قال ثم من قال البوك (متفق علیہ) اس سادہ گفتگو کا اتنا اثر ہوا کہ اسی مجلس میں دس جاپانی مسلمان ہوگئے۔ انھوں نے بتایا کہ جاپانی قوم بنیادی طور پر مادری محبت (Mother-loving) والی قوم ہے اس لئے یہ حدیث اس کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ مزید انھوں نے بتایا کہ جاپانی قوم حقیقت پسند اور سنجیدہ مزاج قوم ہے۔ اس کو عملی باتیں اور مختصر باتیں زیادہ پسند آتی ہیں۔ اس لئے جاپان میں تبلیغ کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بہت زیادہ موزوں ہیں۔ مگر جاپانی زبان میں احادیث کا ترجمہ موجود نہیں۔ صرف ایک کتاب چھاپی گئی ہے مگر اس میں نکاح و طلاق کے مسائل تک ساری چیزیں درج ہیں۔ انھوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ موجودہ مرحلہ میں اگر اخلاقی اور روحانی حدیثوں کا ایک مجموعہ صرف سادہ ترجمہ کے ساتھ جاپانی زبان میں چھاپا جائے تو وہ جاپانیوں پر تبلیغ کے لئے بہت مؤثر ہوگا۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جاپانی قوم دنیا کی سب سے زیادہ ذہین قوم ہے۔ انھوں نے کہا ایسا نہیں۔ البتہ جاپانی قوم بے حد محنتی قوم ہے۔ ایک جاپانی کارکن دفتر یا کارخانہ میں کام کر رہا ہے۔ اس کا مقررہ وقت ختم ہوجاتا ہے مگر کام ختم نہیں ہوتا تو وہ کام چھوڑ کر گھر جانا پسند نہیں کرے گا۔ وہ مزید دو گھنٹے محنت کرکے اپنا کام پورا کرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے جب میں سرکاری ملازم تھا تو اکثر ایسا ہوا کہ میں نے ہفتہ میں اپنی دو دن کی چھٹی استعمال نہیں کی اور چھٹی کے دونوں دن دفتر جاکر اپنا کام مکمل کیا۔

علی آبی نے کہا جاپانی لوگ بالقوہ مسلمان ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of November 1983 All issues

Printed page