Al-Risala · December 1983 · page 23

بامقصد زندگی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

بازاروں کی چہل پہل ، دفتروں کی شان و شوکت اور بلڈنگوں کے پرکشش مناظر میں ہم انسان کو سرگرم دیکھتے ہیں ، حقیقتاً وہاں ان کے سوچے سمجھے فکر نے ان کی رہنمائی نہیں کی ہے۔ بلکہ ان کی ضرورتیں ان کی خواہشیں ان کی امنگیں اور دنیا میں باعزت اور سربلند جگہ حاصل کرنے کے بارہ میں ان کے حوصلوں نے ان کی رہنمائی کی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کو وہ مقصد نہیں قرار دیا جا سکتا جو انسانی شرف کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔

انسان کا اعلیٰ ترین شرف کوئی ایسا مقصد ہی ہو سکتا ہے جو حقیقتاً خالص غور و فکر کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہو۔ جو اندرونی خواہشوں اور ماحول کے دباؤ کے نتیجہ میں وقوع پذیر نہ ہوا ہو۔ یہ مقصد ”خدا کی رضا جوئی‘‘ کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا جب آدمی خدا کی رضا کو اپنا مقصد بناتا ہے تو یہاں اس کے انسانی اوصاف پوری طرح جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ ان تمام چیزوں سے بلند تر ایک مقصد ہے ، جس میں کوئی حیوان مصروف ہے ، اس مقصد کو اختیار کر کے انسان فی الواقع تمام حیوانات سے مختلف ہو جاتا ہے ، یہ انسانی شرف کی آخری انتہا ہے ۔

زندگی کا مقصد ، ایک لفظ میں ، زندگی کو با معنی بنانے کی کوشش ہے۔ زندگی کو بامعنی بنانے کا منصوبہ ہمیشہ اس فرد کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے جس کی زندگی کو بامعنی بنانا مطلوب ہے۔ مثلاً بھیڑوں اور بکریوں کے گلہ کو بامعنی بنانا ہو ، یا گایوں اور بھینسوں کو بامعنی بنانے کا سوال ہو تو اس کا منصوبہ حیوانی سطح پر رہے گا۔ جیسا کہ ہم عام طور پر اس قسم کے منصوبوں میں دیکھتے ہیں۔

مگر انسان کا مقصد متعین کرنا ، بالفاظ دیگر ، انسان کی ہستی کو با معنی بنانا ایک انسانی منصوبہ ہے نہ کہ حیوانی منصوبہ ۔ ایسے منصوبہ کو یقینی طور پر ایسا ہونا چاہئے جو انسان کی امتیازی حیثیت کے عین مطابق ہو۔ جو انسان کو اس کی اصل خصوصیت کے اعتبار سے ترقی اور کامیابی کے مقام کی طرف لے جانے والا ہو۔

خدا کا عابد بننا اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف کرنا ہے ، اور اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف ہی انسان کا سب سے بڑا مقصد ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1983 All issues

Printed page