نازک سوال
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱
نازک سوال
آرتھر کوئسلر موت کی طرف سفر کو نامعلوم ملک (Unknown Country) کی طرف سفر کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت ہماری زندگی کا سب سے عجیب اور پر اسرار واقعہ ہے۔ ہر آدمی متجسس ہوتا ہے کہ یہ معلوم کرے کہ مر کر وہ کہاں پہنچنے والا ہے۔
امریکہ کے مشہور مشنری ڈاکٹر بلی گراہم کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے مسرت کا راز (The Secret of Happiness) اس کتاب میں بلی گراہم نے لکھا ہے کہ ایک بار مجھے دنیا کے ایک بہت بڑے لیڈر کا ارجنٹ پیغام ملا۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ فوراً مجھ سے ملاقات کرو۔ میں روانہ ہو کر مذکورہ لیڈر کے یہاں پہنچا۔ جب میں لیڈر سے اس کے دفتر میں ملا تو وہ فوراً مجھے الگ کمرہ میں لے گیا اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بڑے موثر لہجہ میں کہا : I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the Unknown. Young man, can you give me a ray of hope. میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھودی ہے۔ عنقریب میں نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔ اے نوجوان شخص ، کیا تم مجھے امید کی کوئی کرن دے سکتے ہو۔ موت ہر آدمی کا پیچھا کر رہی ہے۔ بچپن اور جوانی کی عمر میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے۔ مگر بالآخر تقدیر کا فیصلہ غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں۔ تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب میں بہر حال جلد ہی مرجاؤں گا۔ اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ ”موت کے بعد کیا ہونے والا ہے“ اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کی زندگی کو تابناک کر سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کے پیغمبر اسی امید کی روشنی کو دینے کے لئے آئے۔ پیغمبروں نے انسان کو بتایا کہ موت کے بعد ایک اور دنیا ہے جو ابدی بھی ہے اور معیاری بھی۔ موت کے بعد کی اس کامل دنیا میں اس کو داخلہ ملے گا جو موت سے پہلے کی دنیا میں صالح اعمال سے اس کا استحقاق ثابت کرے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ کیا گیا ہے : ...and God calls to the home of peace. اور خدا امن کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ (والله یدعوا الى دارالسلام، يونس ٢٥)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues