منیجر الرسالہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۳
(Magnetism) جوہری طاقت (Nuclear Energy) وغیرہ۔ یہ سب بلا شبہ کائنات کی مسلمہ حقیقتیں ہیں، مگر انسان ان کو براہ راست طور پر نہیں دیکھتا۔ وہ صرف ان کے اثرات (Effects) کے ذریعہ ان کو جانتا ہے۔ انسان کے تجربہ میں کچھ "چیزیں" آتی ہیں جن سے وہ مستنبط کرتا ہے کہ فلاں فلاں فلاں’’صداقتیں‘‘ یہاں پائی جارہی ہیں۔
بیسویں صدی میں علم کی اس تبدیلی نے بنیادی طور پر سارے معاملے کو بدل دیا۔ انسان مجبور ہوگیا کہ وہ ایسی چیزوں کے وجود کا اعتراف کرے جن کو وہ براہ راست نہیں دیکھتا۔ البتہ بالواسطہ تجربات بتاتے ہیں فلاں قسم کی حقیقت یہاں موجود ہونی چاہئے۔ علم کی اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ کیا کہ مشاہداتی حقیقت اور غیبی حقیقت کے فرق کو ختم کر دیا۔ اب نہ دیکھی جانے والی چیز بھی اتنی ہی اہم بن گئی جتنی کہ دیکھی جانے والی چیز۔ انسان مجبور ہوگیا کہ یہ مانے کہ بالواسطہ استدلال یا استنباطی استدلال (Inferential Argument) بھی علمی طور پر اتنا ہی معقول (Valid) ہے جتنا کہ براہ راست استدلال (Direct Argument)
علم میں اس تبدیلی نے موجودہ زمانہ میں الہیاتی استدلال کو عین سائنٹفک استدلال بنا دیا ہے۔ مثلاً خدا کے وجود پر علمائے الہیات کا سب سے بڑا استدلال وہ ہے جس کو فلاسفہ نظم سے استدلال (Argument from Design) کہتے ہیں۔ یہ استدلال انیسویں صدی کے پرجوش علماء نے نہیں مانا۔ انھوں نے کہا کہ یہ استنباطی استدلال ہے اور استنباطی استدلال علمی طور پر معقول نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں اس اعتراض کی بنیاد ختم ہو چکی ہے۔ آج کا انسان مجبور ہے کہ وہ نظم کائنات سے ناظم کائنات پر استدلال کو اتنا ہی علمی اور معقول مانے جتنا کہ وہ مشین کے پہیہ کی حرکت سے Flow of electron کے نظریہ کو معقول سمجھتا ہے۔
اعلان
ماہنامہ الرسالہ کے پچھلے شمارے برائے فروخت دفتر الرسالہ میں موجود ہیں۔ شائقین طلب فرمائیں۔ مکمل فائل کی قیمت ۳۶ روپیہ فی سال (بغیر کمیشن) ہوگی۔ جلد کی قیمت علیحدہ چارج کی جائے گی ۔ متفرق شماروں پر کمیشن ۲۵ فی صد۔
منیجر الرسالہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues