۲۵ واں گھنٹہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۳
۲۵ واں گھنٹہ
ایک فرانسیسی مصنف نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کا نام ہے ۲۵ واں گھنٹہ:
25th Hour
اس کتاب میں مصنف نے دنیا کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے دکھایا ہے کہ دنیا دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو مٹانے کی ایسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس کا آخری نتیجہ صرف انسانیت کی مجموعی ہلاکت ہو۔ ہتھیاروں کی اندھا دھند ریس نے دنیا کو خطرناک ہتھیاروں کا گدام بنادیا ہے۔ مسلسل جنگی تیاریوں نے دنیا کو اپنی بربادی کے آخری کنارے پہنچا دیا ہے۔
مصنف لکھتا ہے کہ ہمارا ۲۴ واں گھنٹہ ختم ہو چکا ہے 24th hour is past اب پچیسواں گھنٹہ (خاتمہ کا گھنٹہ) شروع ہونے والا ہے۔
مصنف نے جو بات ” انسانی جنگ “ کے بارہ میں کہی ہے وہ ” خدائی قیامت “ کے بارہ میں زیادہ صحیح ہے۔ خدا نے موجودہ دنیا کو محدود مدت کے لئے امتحان کے واسطے پیدا کیا ہے۔ یہ مدت صرف خدا کے علم میں ہے، وہ ہم کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں۔ کسی بھی لمحہ خدا اس مدت کے خاتمہ کا اعلان کر سکتا ہے۔ اور اس کے بعد دنیا اور اس کا سارا تمدن عظیم زلزلہ کے ذریعہ تباہ ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد ایک نئی ابدی اور کامل دنیا تخلیق کی جائے گی۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمین پر ہمارا ہر لمحہ گویا آخری لمحہ ہے۔ اگر ہم اپنی صبح میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہم شام نہ کر سکیں۔ اگر ہم اپنی شام میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہمیں دوبارہ صبح دیکھنے کو نہ ملے۔
موجودہ دنیا میں ہمارا ہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت یہ امکان ہے کہ انسانیت اپنی مدت عمر پوری کر چکی ہو۔ انسان اپنے ” ۲۴ ویں گھنٹے “ کو ختم کر کے ۲۵ ویں فیصلہ کن گھنٹے میں داخل ہو جائے۔
لوگ نیوکلیئر جنگ کے خطرہ سے ڈر رہے ہیں۔ حالاں کہ انھیں خدا کی طرف سے قیامت کا صور پھونکا جانے سے ڈرنا چاہئے۔ کیوں کہ نیوکلیئر جنگ کا ہونا یقینی نہیں۔ مگر قیامت کا آنا یقینی بھی ہے اور اس کا انجام ابدی بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues