ہم خدا کے ملک میں ہیں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۵
ہم خدا کے ملک میں ہیں
ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات انھیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں۔ خاتون کے ساتھی نے ان کے کان میں چپکے سے کہا " میڈم آپ اس وقت روس میں ہیں ، امریکہ میں نہیں ہیں "
آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تو وہ مجرم قرار پائے گا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا ہے۔ انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے جسے کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ یہ مکمل طور پر خدا کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔
ایسی حالت میں انسان کی کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ خدا کی اسکیم کو جانے اور اس اسکیم کے مطابق اس دنیا میں رہے۔ اگر وہ یہاں خدا کی اسکیم کے خلاف رہے گا تو وہ باغی قرار پائے گا اور اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کو سخت سزا دے کر ہمیشہ کے لیے اپنی تمام نعمتوں سے محروم کر دے۔
دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق رہنے کا طریقہ کیا ہے ؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دینے کے لئے خدا نے اپنے پیغمبر کھڑے کئے۔ پیغمبروں نے انسان کی قابل فہم زبان میں کھول کھول کر بتا لیا کہ انسان سے خدا کو کیا مطلوب ہے۔ اور خدا کی وہ اسکیم کیا ہے جس کی انسان کو پابندی کرنی چاہیے ۔
قرآن اسی پیغمبرانہ ہدایت کا مستند مجموعہ ہے۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے اور اس کو اپنی ابدی نعمتوں میں حصہ دار بنائے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کو اپنی زندگی کا رہنما بنا لے۔
جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس کا انجام شدید شکل میں وہی ہوگا جو روس میں امریکہ نوازوں کا ہوتا ہے یا امریکہ میں روس نوازوں کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues