ساٹھ کلومیٹر
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۸
ساٹھ کلومیٹر
جابر حسین ایک ریلوے گارڈ تھے۔ ان کی ملازمت کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ کو وہ اندور۔ بلاسپور ایکسپریس لے کر روانہ ہوئے۔ یہ گارڈ کی حیثیت سے ان کا آخری سفر تھا۔ کیونکہ اگلے دن ۱۸ جولائی سے وہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنا رکھا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب وہ اپنے اس نقشہ کو زیر عمل لانے کے کنارے پہنچ چکے ہیں۔ ریلوے گارڈ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی کے آخری سفر پر روانہ ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا ” کل سے میری دوسری زندگی شروع ہوگی “ یہ سفر جابر حسین کے لئے واقعی آخری سفر تھا اور اس کے بعد ہی ان کی دوسری زندگی شروع ہو گئی۔ مگر اس معنی میں نہیں جس میں کہ انہوں نے سمجھا تھا بلکہ کسی اور معنی میں۔ ان کی اکسپرس ٹرین اپنی منزل سے ساٹھ کلو میٹر کے فاصلہ پر تھی کہ پیچھے سے آنے والی ایک مال گاڑی ان کی ٹرین سے ٹکرا گئی۔ گارڈ کا ڈبہ چکنا چور ہو گیا۔ جابر حسین فوراً ہلاک ہو گئے۔ ایک ریلوے افسر نے اس حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا :
Sixty kilometres more and it would have been the end of his official journey. جابر حسین نے اگر ۶۰ کلومیٹر اور طے کر لیا ہوتا تو ریلوے ملازم کی حیثیت سے ان کا سفر پورا ہو جاتا (انڈین ایکسپریس ۱۸ جولائی ۱۹۸۱)
یہی اس دنیا میں ہر آدمی کا حال ہے۔ ہر آدمی اپنی زندگی کو لمبی تصور کئے ہوئے ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا سفر ۶۰ کلومیٹر کے بعد پورا ہو گا۔ مگر موت کا فرشتہ اس کو ۶۰ کلومیٹر سے پہلے ہی پکڑ لیتا ہے ۔ ہر آدمی موجودہ دنیا میں ”اپنی کل “ کی تعمیر کا ایک نقشہ لئے ہوئے ہے۔ مگر اچانک موت آکر اس کو بتاتی ہے کہ اس کی ”کل “ اس دنیا میں شروع نہیں ہوتی جہاں ۱۷ جولائی کے بعد ۱۸ جولائی اور ۱۸ جولائی کے بعد ۱۹ جولائی کی تاریخیں آتی ہیں۔ بلکہ اس کی کل اس ابدی دنیا میں شروع ہوتی ہے جہاں دنیا کے کیسنڈر لپیٹ کر رکھ دئے جاتے ہیں۔ آدمی جہاں اپنے سفر کو ختم سمجھ رہا ہے وہیں سے اس کے حقیقی سفر کا آغاز ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues