Al-Risala · April 1984 · page 16

چھوڑنے کے لئے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶

چھوڑنے کے لئے

برطانوی دورِ حکومت میں ہندوستان کا دار السلطنت کلکتہ تھا۔ 1911ء میں برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ دار السلطنت کو کلکتہ سے دہلی منتقل کر دیا جائے۔ انگریز ماہرِ تعمیرات سر ایڈ ون لیونس (1969-1869) نے نئے دار السلطنت کا نقشہ بنایا۔ 1913ء میں پرانی دہلی کے جنوب میں رائے سینا پہاڑیوں کے علاقہ میں تعمیرات شروع ہوئیں۔ بالآخر وہ عالی شان آبادی وجود میں آئی جس کو نئی دہلی کہا جاتا ہے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ ساری دنیا میں ایک نئی سیاسی لہر آ چکی تھی۔ یہ قومی تحریکوں کی لہر تھی۔ سیاسی افکار کی دنیا میں نئے انقلابات نے نو آبادیاتی نظام کا جو از ختم کر دیا تھا۔ ہندوستان میں آزادی کی تحریک تیزی سے جڑ پکڑ رہی تھی۔ بظاہر یہ بات کھل چکی تھی کہ ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت اب زیادہ دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔

نئی دہلی کی تعمیر کے بعد اسی زمانہ میں فرانس کے ایک لیڈر نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ جب وہ نئی دہلی آئے اور یہاں نیا تعمیر شدہ عظیم دار السلطنت دیکھا تو انہوں نے اس پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا: انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے ، صرف اس لئے کہ وہ اسے چھوڑ دیں: What a magnificent world they built to leave یہ کہانی صرف برطانیہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ یہاں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ آرزوؤں اور تمناؤں کو لئے ہوئے دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ اپنی تمام قوتوں کا استعمال کر کے وہ اپنا ایک " شاندار گھر " بناتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ اس کی آرزوؤں کا گھر بن کر مکمل ہوتا ہے اچانک موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور اس کو اس کی محنتوں سے بنائی ہوئی دنیا سے جدا کر کے وہاں پہنچا دیتا ہے جس کو ار تھر کوٹلر نے نامعلوم ملک Unknown Country کا نام دیا ہے۔

زندگی کی کہانی اگر اتنی ہی ہو تو وہ کیسی عجیب دل درد ناک کہانی ہے۔ مگر جس طرح دنیا کی ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کا بھی ایک تصفیلی جوڑا ہے۔ اور وہ جوڑا آخرت ہے۔ جو شخص آخرت کو بھولا ہوا ہے اس کی زندگی یقیناً صرف ایک المیہ ہے۔ مگر جو شخص امکان آخرت سے فائدہ اٹھائے اور موجودہ دنیا کے مواقع کو اگلی دنیا کی تعمیر میں صرف کرے۔ اس کے لئے موجودہ دنیا ایک نئی زیادہ کامیاب زندگی کا قیمتی زینہ بن جائے گی۔

آخرت کے بغیر انسان کی زندگی صرف ایک المیہ ہے۔ مگر آخرت کو بھولنے کے بعد وہ ایک طربیہ میں بدل جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1984 All issues

Printed page