Al-Risala · June 1984 · page 12

حق کی دعوت

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲

حق کی دعوت

حضرت موسیٰ کو خدا نے فرعون کے سامنے دعوتِ حق کے لیے مقرر کیا تو بشری تقاضے کے تحت ان کے اندر کچھ گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ خدا نے فرمایا کہ تم جاؤ، میں تمھارے ساتھ ہوں اور سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں ( لا تخافا اننی معکما اسمع واری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں ارشاد ہوا ہے کہ تم نے کنکری نہیں پھینکی بلکہ ہم نے پھینکی ( و ما رمیت اذ رمیت و لكن الله رمى - الانفال ۱۷)

اس طرح کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کے داعی کو خدا کی بے حد خصوصی مدد حاصل ہوتی ہے۔ دعوت حق کا کام اتنا مشکل کام ہے کہ کوئی انسان اس کو انجام نہیں دے سکتا۔ وہ اتنا نازک کام ہے کہ کوئی اس کی نزاکتوں کو نبھا نہیں سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف خدا ہی کے لیے ممکن ہے کہ وہ اس کو انجام دے اور یقیناً خدا ہی اس کو اپنی طاقت سے انجام دیتا ہے۔ خدا ہر قسم کے کامل اختیارات کا مالک ہے۔ تاہم یہاں خدا کی ایک ’’مجبوری‘‘ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان کے درمیان دعوتِ حق کا کام انسان ہی کے ذریعہ انجام پائے۔ تاکہ غیب کا پردہ باقی رہے۔ ایمان در اصل نام ہے۔ __ انکار کا موقع ہوتے ہوئے اقرار کرنے کا اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب اس کام کو بشری سطح پر انجام دیا گیا ہو۔

یہاں خدا اور بندے کے درمیان ایک خاموش عہد ہے۔ خدا اس بندے کے ساتھ ہے جو خدا کے اس کام کے لیے اٹھے۔ خدا اس بات کا ضامن ہے کہ وہ اس کام کی انجام دہی کے لیے اپنے بندے کی ہر ممکن مدد کرے ۔

وہ اس کی نادانیوں کو سنبھالے۔ وہ اس کی غلطیوں کو معاف کر دے۔ وہ اس کے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر دے ۔ وہ اس کو ہر قسم کے ضروری مواقع فراہم کرتا رہے۔ وہ کسی حال میں اس کو اکیلا نہ چھوڑے۔ شرط صرف یہ ہے کہ بندہ ہر حال میں حق پر قائم رہے، وہ ذرا بھی دائیں یا بائیں نہ جھکے ۔

دعوت حق کا کام مکمل طور پر ایک خدائی کام ہے۔ یہاں کرنا سب کچھ خدا کو ہے۔ بندے کو تو صرف کھڑا رہنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page