Al-Risala · June 1984 · page 29

موافق امکانات

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

واقعہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو جو معجزے دئے گئے وہ سب باعتبارِ مواد استدلالِ خدا کی پیدا کی ہوئی کائنات میں وسیع پیمانہ پر موجود ہیں۔ مگر قدیم زمانہ میں چوں کہ وہ انسان کے علم میں نہیں آئے تھے اس لئے خدا نے لوگوں کو خارق عادت معجزے دکھائے۔ آج سائنسی تحقیقات نے فطرت کی یہ نشانیاں کھول دی ہیں اس لئے آج کے انسان کے یقین و ایمان کے لئے وہی کافی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنسی انقلاب خدا کے معجزہ کا ظہور ہے۔ اس کے ذریعہ خدا کی تمام باتیں اعجازی سطح پر ثابت ہو رہی ہیں۔ اگر ان سے گہری واقفیت حاصل کی جائے اور ان کو دعوتِ حق کی حمایت میں استعمال کیا جائے تو یہ دعوت کے ساتھ معجزہ کو جمع کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج ہم حقیقی معنوں میں سائنسی دلائل کے ساتھ دین کی دعوت پیش کر سکیں تو زمین پر دوبارہ یہ واقعہ ظہور میں آئے گاکہ وقت کا لبید یہ کہہ دے کہ کیا حقیقت کے اس طرح ثابت ہو جانے کے بعد بھی۔ سائنسی استدلال موجودہ زمانہ میں معجزاتی استدلال کا بدل ہے۔ جدید سائنس نے تمام دینی تعلیمات کو علمی طور پر ثابت شدہ یا کم از کم قابل فہم (Understandable) بنا دیا ہے۔ تاہم اسلام کے داعیوں نے ابھی تک اس کو واقعی معنوں میں استعمال نہیں کیا۔ راقم الحروف نے اس موضوع پر دس سالہ مطالعہ کے بعد ۱۹۶۴ء میں ایک کتاب (مذہب اور جدید چیلنج) لکھی تھی جو عربی زبان میں الاسلام یتحدی کے نام سے شائع ہو چکی ہے، تاہم پچھلے 20سال میں علم کا دریا بہت آگے جا چکا ہے۔ چنانچہ اب میں اس موضوع پر انشاء اللہ دوسری جامع تر کتاب تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جس کا انگریزی نام God Arises ہو گا۔ وبیّد اللہ التوفیق۔

موافق امکانات

دعوتِ دین کا کام انتہائی مشکل کام ہے۔ مگر اللہ نے اپنی خصوصی رحمت سے اس کو ہمارے لئے آسان بنا دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالی نے انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں کیں جس نے ہمارے لئے نئے مواقع کھول دئے۔ موجودہ زمانہ میں یہ تاریخ یعنی عمل اپنی آخری حد کو پہنچ گیا ہے۔ حتی کہ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جو کام پہلے ’’ خون ‘‘ کے ذریعے کرنا پڑتا تھا، اس کو اب قلم کی سیاہی کے ذریعہ انجام دیا جا سکے۔

اس عمل تیسیر کے تین خاص پہلو ہیں جن کی طرف قرآن میں اشارے کئے گئے ہیں۔

۱۔ قرآن میں اہل ایمان کو یہ دعا تلقین کی گئی کہ ربنا ولا تحمل علینا اصراً كما حملته على الذین من قبلنا (خدایا ، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا )۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page