Al-Risala · July 1984 · page 8

اسلام کے نام پر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۸

اسلام کے نام پر

عثمانی ترکوں میں سلطان سلیم نہایت بیدار مغز بادشاہ گزرا ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب اس کو اقتدار ملا تو ایک طرف یورپ زبردست ترقی کے مقام کو پہنچ چکا تھا اور دوسری طرف ترکی تقریباً ڈھائی صدی کے عروج کے بعد زوال کا شکار ہو کر یورپ کا مرد بیمار بن رہا تھا۔ ان حالات میں سلطان نے ترکی کو از سر نو طاقت ور اور ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کی۔ اس وقت سلطان سلیم کی زبردست مخالفت کی گئی۔ یہ مخالفت کرنے والے ملک کے علماء تھے۔ سلطان نے فوجوں کی جدید تنظیم کے لئے سنگین والی رائفلیں منگوائیں تو علماء نے کہا کہ یہ کافروں کا ہتھیار ہے اور اس بنا پر اس کا استعمال حرام ہے۔ اس نے سپاہیوں کے استعمال کے لئے جدید طرز کی فوجی وردیاں بنوائیں تو علماء نے کہا کہ یہ تشبہ بالنصاریٰ ہے اور تشبہ بالنصاریٰ سے ہم کو منع کیا گیا ہے۔ وغیرہ۔ سلطان سلیم کے عمل کو بے دینی قرار دیا گیا اور یہ کہ عوام کے اندر اس کے خلاف نفرت پھیلائی گئی کہ وہ مسلمانوں کے اندر کافروں کے طریقے رایج کرکے اسلام کو بگاڑتا ہے۔ حتیٰ کہ شیخ الاسلام عطا اللہ آفندی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلطان سلیم قرآن کے خلاف عمل کر رہا ہے اور جو بادشاہ قرآن کے خلاف عمل کرے وہ بادشاہ بننے کے قابل نہیں۔

اس زمانہ میں ترکی کی عوام پر علماء کا بہت اثر تھا۔ ان کی اس قسم کی باتوں سے سلطان کے خلاف زبردست شورش پیدا ہوگئی۔ یہاں تک کہ1807 میں سلطان کو تخت سے معزول ہونا پڑا۔

ترک علماء جدید دنیا کی سرحد پر ہونے کے باوجود جدید تبدیلیوں سے بالکل نا واقف تھے۔ اپنے خیال کے مطابق اخلاص سے مگر حقیقۃً سراسر نادانی کے ساتھ انھوں نے یہ کوشش کی کہ ترک قوم سات سو سال پہلے کی فضا سے نہ نکلنے پائے۔ سلطان سلیم کے بعد سلطان محمود نے ۱۸۲۶ء میں دوبارہ عسکری تنظیم میں جدید طریقوں کو رایج کیا۔ مگر ترک عالموں اور درویشوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ بدعت ہے۔ سلطان بے دین ہو گیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر وہ اپنے ایمان کو بچانا چاہتے ہیں تو فوج میں بھرتی نہ ہوں۔ اس قسم کے واقعات نے ترکی کی نئی نسل میں رد عمل پیدا کیا۔ وہ سمجھنے لگے کہ اسلام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ زمانے کے ساتھ چل سکے ۔ ۱۹۰۸ء میں نوجوانوں کی جماعت کے ہاتھوں سلطان عبد الحمید خاں کا اقتدار سے بے دخل کیا جانا اسی اسلام بیزاری کا نتیجہ تھا جس نے بالآخر کمال اتا ترک کے دور کو پیدا کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page