Al-Risala · July 1984 · page 24

اقامت دین

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۴

الرساله (انگریزی)

الرساله (اردو) ۱۹۷۶ میں نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس کا انگریزی ایڈیشن فروری ۱۹۸۴ سے نکل رہا ہے اور ہر ماہ پابندی کے ساتھ خریداروں کے پاس پہنچ رہا ہے۔ الرسالہ کے ایک خریدار مسٹر جیت سنگھ لانہ کے خط کا عکس مقابل کے صفحہ پر شائع کیا جارہا ہے، یہ ان بہت سے خطوں میں سے ایک ہے جو برابر ہم کو مختلف حلقوں کی طرف سے موصول ہو رہے ہیں۔

مسلم دنیا میں بہت سے انگریزی رسالے اور اخبارات شائع ہورہے ہیں۔ بظاہر ان کے نام مختلف ہیں۔ تاہم اگر مضامین کے اعتبار سے ان کا کوئی ایک مشترک نام رکھنا ہو تو وہ پروٹسٹ (احتجاج) ہوگا۔ ان جرائد کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ان کے پاس اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کے سوا کوئی اور لکھنے کی چیز نہیں۔ انھوں نے نہ خدا کو پایا جس کی وہ کبریا ئی بیان کریں۔ ان کو نہ جہنم کی لپٹیں محسوس ہوئیں جس کی وہ دنیا کو خبر دیں۔ ان کو نہ جنت کے کسی جھونے کا تجربہ ہوا جس کو وہ خدا کے بندوں تک پہنچائیں۔ ان کو بس ایک ہی چیز معلوم ہے۔ اور وہ مسلمانوں کے قومی مسائل ہیں اور وہ انہیں کو دہراتے رہتے ہیں۔

مسلمانوں کے جرائد ساری دنیا میں ایک قسم کا احتجاج نامہ بن کر رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام انسان کو اس میں پڑھنے کی کوئی چیز ملتی ہی نہیں۔ عام انسان جو اپنی فطرت کے زور پر سچائی کی تلاش میں ہے اس کو مسلمانوں کی قومی چیخ پکار سے کیا تعلق۔ نتیجہ یہ ہے کہ بظاہر اگرچہ مسلمانوں کے بہت سے انگریزی جرائد ساری دنیا میں نکل رہے ہیں مگر دین حق کے تعارف کے اعتبار سے ان کی کوئی افادیت نہیں۔ الرساله (انگریزی) مسلم دنیا میں غالباً پہلا رسالہ ہے جو لوگوں کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کرتا ہے جو احتجاج اور شکایت سے بلند ہو کر انسان کو برتر سچائیوں کی طرف بلاتا ہے۔ جو انسان کی ابدی فطرت کا ترجمان ہے نہ کہ کسی قوم کے وقتی مسائل کا ترجمان۔

ایسے ایک پرچہ کا وجود میں آنا آپ پر ز دست ذمہ داری ڈالتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ اس کے ساتھ تعاون کریں۔ آپ اس کی ایجنسی لیں۔ آپ لوگوں کو اس کا خریدار بنائیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے آپ اپنی ساری طاقت لگا دیں۔

منیجر الرساله (انگریزی)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page