اقامت دین
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۷
اس کے علاوہ سفر میں چند چیزیں ساتھ لے جانی تھیں جواب تک تیار نہ تھیں۔ مثلاً انگریزی الرسالہ (مارچ ۱۹۸۴ء) انگریزی میں تعارفی سٹ، مرکز کا تعارف نامہ وغیرہ۔ صرف چند دن کے اندر یہ سارے کام ہو جانا ضروری تھا۔ سعودی عرب ایئر لائنز نے دو ٹکٹ دیئے، ایک میرے لئے اور ایک مولانا ہاشم القاسمی کے لئے۔ ۲۹ فروری کی صبح کے لئے ریزرویشن بھی کرا لیا گیا۔ مگر ۲۸ فروری آگئی اور ابھی تک کام پورا نہیں ہو سکتا۔ یقین نہیں تھا کہ میرا سفر ہو سکے گا۔
۲۸ فروری کی صبح کو میں نے اپنے لڑکے ثانی اثنین کو کاموں کی فہرست دے کر گھر کے روانہ کیا۔ ثانی اثنین کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا تھا کہ اتنا سب کام صرف ایک دن میں کس طرح انجام پائے گا۔ رات کو واپس آکر ثانی اثنین نے بتایا کہ میں نظام الدین سے روانہ ہوا تو اجمیری گیٹ تک مجھ کو تمام چورا ہوں پر گرین سگنل ملا۔ پہلی بار بالکل غیر معمولی طور پر ایسا ہوا کہ کسی ایک جگہ رکے بغیر میں سیدھا اجمیری گیٹ پہنچ گیا۔ اس واقعہ سے میری ہمت بندھی، مجھے یقین ہو گیا کہ ہمارے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہے۔ اور ضرور تمام کام ہو جائے گا۔ چنانچہ رات تک حیرت انگیز طور پر سارا کام مکمل ہو چکا تھا۔ ایک ہفتہ کا کام صرف ایک دن میں مکمل ہو گیا اور میں حسب پروگرام ۲۹ فروری کو صبح ۱۰ بجے سعودی ایئر لائنز کی فلائٹ سے مدینہ کے لئے روانہ ہو گیا۔
غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے میرے پروگرام کی قطعی اطلاع الجامعۃ الاسلامیہ (مدینہ) کو نہیں دی جا سکی تھی۔ میری روانگی کے بعد ۲۹ فروری کی دوپہر کو جامعہ کے نام دہلی سے ٹیلکس کیا گیا جب کہ اسی دن شام کو میں مدینہ پہنچنے والا تھا۔ ظہران اور ریاض ہوتا ہوا مدینہ ایئر پورٹ پر پہنچا تو جامعہ کا نمائندہ وہاں معاونت کے لئے موجود تھا۔ موجودہ زمانہ میں مواصلات کی ترقی نے انسان کے لئے کس قدر آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔
مدینہ ایئر پورٹ سے ہم الجامعۃ الاسلامیہ کے نمائندہ کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ ہم لوگ فندق النخیل میں پہنچادئے گئے۔ یہاں ہمارا قیام کمرہ نمبر ۹۰۱ اور ۹۰۲ میں تھا۔ اگلے دن ہم الجامعۃ الاسلامیہ لے جائے گئے۔ وہاں رئیس الجامعۃ دکتور عبد اللہ صالح العبید اور دوسرے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ عرب لوگ ملاقات کے وقت دعائیں بہت دیتے ہیں۔ یرحکم اللہ،، یحییکم اللہ جیسے کلمات کی فضا میں ملاقاتیں ہوئیں۔ رئیس الجامعۃ بار بار فرصة طيبة ، فرصتہ طلبہ کہتے رہے۔ ذمہ داروں کے مشورے کے بعد محاضرات کا پرو گرام ترتیب دیا گیا۔ اس سلسلے میں ذمہ داروں کی طرف سے اخبار میں بھی اعلان شائع کر دیا گیا۔ جامعہ سے شائع کردہ سرکلر کا عکس مقابل صفحہ پر دیا جا رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues