Al-Risala · July 1984 · page 38

محاضرات

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۸

ہے کہ جب وہ بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ " وہ بیسویں صدی میں نہیں بول رہے ہیں بلکہ " صلاح الدین کے منبر پر کھڑے ہو کر اقوامِ عالم کو خطاب کر رہے ہیں۔

۵ مارچ کو دوپہر کا کھانا رئیں جامعۃ اسلامیہ دکتور عبداللہ صالح العبید کی طرف سے تھا۔ انھوں نے میرے اعزاز میں مدینہ کے ہوٹل میں ظہرانہ دیا۔ اس ظہرانہ میں چنی ہوئی اعلیٰ شخصیتیں موجود تھیں۔ جس میں وزارت تعلیم کے وکیل بھی تھے۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے ایک خصوصی دعوت کی جس میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے پی اے استاد اسامہ خلیفہ بھی شریک تھے۔

ان مواقع پر ذمہ دار لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ شیخ محمدعمر فلاتہ سے اسلامی مرکز کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہم سیاست سے دور رہ کر خالص دعوت کے میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری زبان سے نکلا کہ ہندوستان کے حالات میں موثر کام کرنے کے لیے سیاست سے دور رہنا ضروری ہے، شیخ محمدعمر فلاتہ نے فوراً کہا کہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ہرملک میں ضروری ہے۔ سیاست میں مشغول ہو کر کوئی موثر کام نہیں کیا جا سکتا۔

پچھلے برسوں میں سیاسی اسلام کا ذوق اتنا بڑھا کہ اسلامی دعوت کو سیاسی دعوت کے ہم معنیٰ بنا دیا گیا۔ جہاد غیر مسلموں سے مقابلہ کے لئے تھا۔ انھوں نے جہاد کو مسلمانوں کی باہمی جنگ کا عنوان بنا لیا۔ مگر علی تحجر بہ نے اس کو نا کام ثابت کر دیا۔ چنانچہ عالمِ اسلام میں اب وہ دور شروع ہو گیا ہے جو بالآخر اس فکر کو بالکل بے قیمت بنا کر رکھ دے گا۔ اس سفر میں میری ملاقات ایک عرب قائد سے ہوئی ۔ وہ پہلے سیاسی اسلام کے داعی تھے۔ اب وہ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اسی کو صحیح اسلام سمجھتا ہوں۔ اور پچھلے 20سال سے اس کی تبلیغ کر رہا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ جس فکر پر آپ ۲۰ سال پہلے پہنچ گئے تھے ، ہم اس پر صرف ایک سال پہلے پہنچے ہیں۔

رئیس الجامعہ دکتور عبداللہ صالح العبید سے میں نے پوچھا کہ آپ نے الاسلام تجدیدی پڑھی ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ اس نے نہیں پڑھی ہے۔ اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے کہ الاسلام تجد کی کے بعد دوسری تصنیفات کیا ہیں اور وہ عربی میں منتقل ہوئیں یا نہیں۔

یہاں جس جگہ بھی جانا ہوا یا جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے یہی بتایا کہ اس نے الاسلام تجیدی پڑھی ہے۔ بعض نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ اور اس کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ الجامعۃ الاسلامیہ میں انڈونیشیا کے ایک طالب علم نے بتایا کہ انڈونیشی زبان میں بھی الاسلام تجیدی کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ انھوں نے میرا پتہ لیا اور کہا کہ اس کا ایک نسخہ میں آپ کو ڈاک سے روانہ کروں گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page