بال ٹھاکرے کا انٹرویو
الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶
شیوسینا کے لیڈر نے جو واقعہ بیان کیا، وہ اصلًا ایک صحیح واقعہ ہے۔ البتہ اس کو بیان کرتے میں ان سے کچھ جزئی غلطیاں ہو گئی ہیں۔ ان غلطیوں کو گستاخی نہیں کہا جا سکتا۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ واقعہ کی صحیح روایت بتا کر ان کی تصحیح کر دیں۔ ذیل میں ہم واقعہ کی اصل روایت درج کرتے ہیں۔ عن ابی ھریرة قال : بال اعرابی فی المسجد فقام الناس الیہ ليقعُوافية ۔ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: دعوة واريقوا علی بولہ سجلا من ماء او ذَنُوباً من ماء فانما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين (رواة البخاری فی کتاب الوضوء)
امام بخاری حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ لوگ یہ دیکھ کر اس کی طرف دوڑ پڑے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ایک ڈول ( یا چند ڈول) ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے۔
مسٹربال ٹھاکرے کا انٹرویو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی بات کہنے میں منافقت کا طریقہ نہیں اختیار کیا ہے بلکہ اپنا خیال صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ ان کو یہ شکایت ہے کہ مسلمان ان کے جلوس پر کیوں اعتراض کرنے ہیں جس کی وجہ سے شیوجینتی کا جلوس چودہ سال تک قانوناً بند رہا۔ اگر مسلمانوں کے کچھ جذبات ہیں تو کیا ہمارے جذبات نہیں ہیں۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں۔ ہم اپنے مذہب پر یا اپنی تاریخ پر بولیں تو مسلمانوں کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں مگر مسلمانوں نے جب پاکستان کے نام سے اپنا بٹوارہ کر لیا تو اس کے عین منطقی نتیجہ کے مطابق ہندوستان ہندو ملک ہے۔ جو کوئی یہاں رہنا چاہے وہ بھائی بن کر یہاں رہ سکتا ہے۔ ہم کسی پر کوئی پابندی لگانا نہیں چاہتے۔ میں اپنے پیروؤں سے یہ نہیں کہتا کہ وہ اس فرقہ کو ماریں یا اس سے نفرت کریں۔ مگر مسلمانوں کا جو طریقہ ہے اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ فرقہ وارانہ فساد بند ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ہمارے خلاف حملہ کرنا چھوڑ دیں اور پھر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔ ہم حملہ نہیں کرتے ہم صرف بدلہ لیتے ہیں۔ اگر وہ حملہ کریں تو ہم ضرور بدلہ لیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ شیوسینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے نے خود ہمارے رسول کی ایک حدیث یاد دلا کر ہم کو ہر قسم کے فساد پر فتح حاصل کرنے کا قیمتی راز بتا یا تھا۔ مگر ذہنی بگاڑ کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہم نے اس کو بھی اپنے خلاف ایک نیا شدید فساد پیدا کرنے کا ذریعہ بنالیا۔ کیسا عجیب ہے یہ طریقہ جس کے مطابق ہم دنیا میں رہنا چاہتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1984 All issues