وحی کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۴۵
اسی طرح اگر ہمیں کسی الیکٹران کی حرکت کی ٹھیک ٹھیک رفتار معلوم ہو تو قدرت ہمیں فضا کے اندر اس کا صحیح مقام دریافت کرنے نہیں دیتی ، گویا کہ الیکٹران کا مقام اور اس کی حرکت کسی لالٹین کی سلائڈ کی دو مختلف سمتوں پر نقش ہیں۔ اگر ہم سلائڈ کو کسی خراب لالٹین میں رکھیں تو ہم دور رخوں کے درمیان نصف کو روشنی میں لاسکتے ہیں۔ اور الیکٹران کے مقام اور اس کی حرکت دونوں کو کچھ نہ کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ اچھی لالٹین کے ذریعہ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ ہم ایک پر جتنی زیادہ روشنی ڈالیں گے ، دوسرا اتنا ہی دھندلا ہوتا چلا جائے گا۔ خراب لالٹین ، قدیم سائنس ہے جس نے ہمیں اس فریب میں مبتلا کر دیا کہ اگر ہمارے پاس بالکل مکمل لالٹین ہو تو ہم کسی خاص وقت پر ذرے کے مقام اور اس کی رفتار کا ٹھیک ٹھیک تعین کرسکتے ہیں۔ یہی دھوکہ تھا جس نے سائنس میں جبریت (Determinism) کو داخل کر دیا ، مگر اب جبکہ جدید سائنس کے پاس زیادہ بہتر لالٹین ہے اس نے ہم کو صرف یہ بتایا ہے کہ حالت اور حرکت کی تعین حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں جنہیں ہم بیک وقت روشنی میں نہیں لاسکتے (ماڈرن سائنٹفک تھاٹ، صفحہ ۱۷- ۱۸)
اس سلسلہ میں آخری سوال یہ ہے کہ خدا کی وحی جو مختلف زمانوں میں انسانوں کے پاس آتی رہی ہے ان میں سے کون سی وحی ہے جس کی آج کے انسانوں کو پیروی کرنا ہے۔ اس کا جواب بالکل سادہ ہے ۔ بعد کے لوگوں کے لئے وہی وحی قابل اتباع ہوسکتی ہے جو سب کے بعد آئی ہو۔ حکومت ایک ملک میں کسی شخص کو اپنا سفیر بنا کر بھیجتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس شخص کی سفارت اسی وقت تک کے لئے ہے جب تک وہ اس عہدے پر باقی ہو ، جب اس کی مدت کار کردگی ختم ہو جائے اور دوسرے شخص کو اس عہدے پر مامور کر دیا جائے تو اس کے بعد وہی شخص حکومت کا نمائندہ ہوگا جس کو سب سے آخر میں نمائندگی کا موقع دیا گیا ہے۔
اس اعتبار سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ آخری رسول ہیں، جو آج اور آئندہ قیامت تک کے لئے انسانیت کے رہنما ہیں ، جو ساتویں صدی عیسوی میں عرب سے اٹھے تھے۔ جن کے بعد نہ کوئی نبی ہوا اور نہ آئندہ کوئی نبی ہوگا۔ آپ کا تمام نبیوں کے بعد تشریف لانا اس بات کی کافی وجہ ہے کہ آپ ہی کو حال اور مستقبل کے لئے خدا کا نمائندہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ بعد کو آنے والا اپنے سے پہلے آنے والوں کو منسوخ کر سکتا ہے مگر پہلے آنے والا اپنے بعد آنے والے کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ ہم ان تمام نبیوں کو مانتے ہیں جو خدا کی طرف سے آئے ، ان میں سے کسی کا بھی ہم انکار نہیں کرتے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے رسولوں میں تفریق نہ کرو۔ (بقرہ۔ آخر) مگر یہ ظاہر ہے کہ اطاعت
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues