Al-Risala · October 1984 · page 26

نفاذ شریعت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶

نفاذ شریعت

اسلام کا شرعی قانون آج اگر چہ کہیں پوری طرح نافذ نہیں۔ تاہم اگر کہیں وہ جزئی طور پر بھی نافذ ہے تو اس کے نتائج بتاتے ہیں کہ وہ انسانی سماج کے لئے رحمت ہے۔ اس کی ایک مثال موجودہ زمانہ میں سعودی عرب ہے، جہاں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق جرائم کی تعداد تمام دنیا میں سب سے کم ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہاں کی عدالتوں میں شرعی قانون نافذ ہے۔

تاہم مسلمانوں کا جدید طبقہ اس سلسلہ میں کچھ شبہات وارد کرتا ہے۔ یہ شبہات خاص طور پر دو قسم کے ہیں:

1۔ شریعت میں اختلافات ہیں، پھر اس کو عملاً نافذ کرنے کی صورت کیا ہوگی ۲۔ زمانہ بدل گیا ہے، اس لئے شرعی قانون آج کے لئے مفید نہیں مسلم رہنماؤں کی ایک عالمی کانفرنس میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ مسلم ممالک میں شریعت اسلامی کا نفاذ کیا جائے تو ایک اعلی تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا :

امي شرعية نطبق - هل نطبق مذاهب الامام ہم کس شریعت کو نافذ کریں گے ۔ کیا امام احمد احمد او مذاهب الشافعي او مذاهب مالك او کا مذہب یا امام شافعی کا مذہب یا امام ابو حنیفہ کا ابی حنیفة۔

مذہب۔

الشرق الاوسط (الرياض) ۲۸ جنوری ۱۹۸۴

اس سوال میں ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے ۔ وہ یہ کہ اس قسم کے لوگ "شریعت " اور "فقہ " دونوں کو ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فقہ کی جزئیات میں اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ خود شریعت میں اختلاف ہے۔ نیز وہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں کہ مختلف فقہی مذاہب محض جزئی امور میں اختلاف کی بنا پر الگ الگ شمار ہوتے ہیں نہ کہ اصولی اور اساسی امور میں اختلاف کی بنا پر۔

فقہاء کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تشریع کا ماخذ قرآن اور سنت ہے اور اس کے بعد اجماع اور قیاس۔ (اجماع حقیقتاً کوئی مستقل چیز نہیں، وہ قیاس ہی کی کامل اور متفق علیہ صورت ہے۔ فقہ اسلامی میں احکام کی جو تدوین ہوئی ہے ، ان کا ایک حصہ وہ ہے جو کتاب و سنت سے براہ راست طور پر (عبارت النص سے اخذ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جس کی بنیاد قیاس ہے یعنی کتاب وسنت میں مذکور احکام سے استنباطی طور پر مزید احکام کا استخراج۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page