Al-Risala · October 1984 · page 28

حق کی دعوت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲۸

حق کی دعوت

آج کل ہر آدمی دعوت حق کا نام لیتا ہے مگر دعوت حق ابھی تک وجود میں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہ اس کی قیمت ادا کرنا نہیں چاہتے۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور دعوت حق کی بھی ایک قیمت ہے جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے دعوت حق کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ حق کی دعوت دینے کی لازمی شرط یہ ہے کہ غیر حق کو چھوڑ دیا جائے ـــــــــ خدا کی بڑائی بیان کرنے کے لئے اٹھنا اور انسانوں کی بڑائی میں گم رہنا، آخرت کا داعی بننا اور دنیا کے مفادات کے لئے قوموں سے کش مکش کرنا، ابدی مسائل کی بات کرنا اور اسی کے ساتھ وقتی مسائل میں الجھے رہنا، یہ سب تضاد کی باتیں ہیں اور جو لوگ اپنے اندر تضاد لئے ہوئے ہوں وہ کبھی حق کے داعی نہیں بن سکتے۔ اس قسم کا ہر واقعہ بتاتا ہے کہ لوگ " داعی حق " کا ٹائٹل لینے کے لئے ٹو دوڑ پڑے ہیں مگر وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں۔

لوگوں کو اپنی مفروضہ شخصیتیں اتنی زیادہ محبوب ہیں کہ ان پر ادنی تنقید سننا بھی انہیں گوارا نہیں۔ لوگوں کو اپنے دنیا کے مفادات اور مصلحتوں سے اتنی دلچسپی ہے کہ وہ ان کو کسی حال میں چھوڑنا نہیں چاہتے۔ جو قومیں اسلام کے پیغام رحمت کی مخاطب ہیں ان سے وہ قومی اور مادی لڑائی چھیڑ کر انھیں اسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی چیزوں کے ساتھ حق کی دعوت کا نام لینا صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ آدمی حق کی دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔

حق کی دعوت ابدی صداقتوں کی دعوت ہے۔ حق کی پکار خدا اور آخرت کی پکار ہے۔ یہ ایک نہایت نازک کام ہے جس کے ساتھ کوئی دوسرا کام جمع نہیں ہوسکتا۔

حق کا داعی لوگوں کو موت اور قیامت کے بھیانک مسئلہ سے آگاہ کرتا ہے۔ اس کو ہر واقعہ میں آخرت کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ وہ گرمی کی شدت دیکھتا ہے تو اس میں اس کو نار جہنم کی شدت دکھائی دیتی ہے۔ اس کو معاشی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بھی اس کو آخرت کی تکلیف یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔ وہ لوگوں کو "ظلم" کے خلاف چیختے ہوئے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ لوگو، اس دن کو یاد کرو جب تمہارے پاس زبان بھی نہ ہوگی کہ تم بولو اور پانی کا ایک گلاس بھی نہ ہو گا جس سے تم اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1984 All issues

Printed page