Al-Risala · January 1984 · page 5

محنت کے ذریعہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۵

محنت کے ذریعہ

جوزف کا نریڈJoseph (Joseph Conrad) پولینڈ کے ایک شہر بر ڈک زیو (Berdiczew) میں ۱۸۵۷ میں پیدا ہوا ۔ وہ بچپن ہی میں یتیم ہو گیا۔ اپنی زندگی کے ابتدائی زمانہ میں اس کو تلاش کے ذریعہ اپنی معاش فراہم کرنی پڑی۔ اس کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ ہوسکی۔ مختلف ملکوں میں سفر کرتا ہوا بالآخر وہ انگلستان پہنچا۔ اور ۱۸۸۶ میں اس نے برطانوی شہریت حاصل کر لی۔

برطانیہ کے زمانہ قیام میں اس نے انگریزی سیکھنے کے لئے غیر معمولی محنت کی ۔ یہاں تک وہ انگریزی زبان کا مستند ادیب بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے زمانہ میں انگلستان کے زندہ مصنفین میں اس کی شہرت ہارڈی (Hardy) کے بعد صرف نمبر ۲ پر تھی۔

اس کی کتاب لارڈ جم (Lord Jim) میں اس کے جو حالات چھپے ہیں اس میں اس کے بارے میں یہ جملہ درج ہے " اس نے انگریزی زبان میں صاحب طرز ادیب کا نام حاصل کیا اگر چہ ۱۹ سال کی عمر تک اس کا یہ حال تھا کہ وہ انگریزی کا ایک لفظ نہ بول سکتا تھا:

He made his name as a stylist in English although he was unable to speak a word of the language before he was nineteen. جوزف کانریڈ کی دو درجن سے اوپر کتابیں ہیں جو زیادہ تر ناول یا کہانی کے پیرایہ میں ہیں۔ انگریزی اگر چہ اس کی مادری زبان نہ تھی مگر اس کی انگریزی کتابیں یونی ورسٹیوں کے تعلیمی نصاب میں شامل ہیں۔ اس نے ۱۹۲۴ میں انگلستان میں وفات پائی۔

انگلستان کے ایک باشندہ نے مجھ سے بتایا کہ کالج میں اس کے انگریز استاد نے ایک بار اس سے کہا کہ تم جوزف کا نریڈ کو پڑھو ۔ وہ بہت خوب صورت انگریزی لکھتا ہے : Read Joseph Conrad. He writes beutiful English یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محنت ہر چیز کا بدل ہے۔ آپ غریب گھر میں پیدا ہو کر بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ بن سکتے ہیں۔ آپ غیر اہل زبان ہو کر اہل زبان جیسے ادیب بن سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کی نظر میں غیر اہم ہوتے ہوئے ایسی چیز لکھ سکتے ہیں جس کو پڑھنے کے لئے تمام دنیا والے مجبور ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page