گھاٹے والا
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۲
گھاٹے والا
قرآن میں ارشاد ہوا ہے ــــــــــ کہو، کیا میں بتاؤں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں۔ وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوئی گئیں۔ اور وہ اسی خیال میں رہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا۔ پس ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔ ہم قیامت کے دن ان کے اعمال کا کچھ وزن قائم نہ کریں گے (الکہف)
تمام محرومیوں میں سب سے زیادہ عجیب محرومی وہ ہے جب کہ آدمی کمائی کرے مگر اس کو اس کا حاصل نہ ملے۔ وہ مہینہ بھر محنت کرے مگروہ کوئی تنخواہ نہ پائے۔ وہ تجارت میں اپنی ساری پونجی لگائے مگر اسے کچھ نفع حاصل نہ ہو۔ وہ ارمانوں کے ساتھ اپنا گھر بنائے مگر اس میں اس کو چین کے ساتھ رہنا نصیب نہ ہو۔ اگر کسی آدمی کے ساتھ ایسا حادثہ گزرے تو وہ بالکل بجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے اعضا شلل ہو جاتے ہیں۔ اپنی محنت کے آخری نتیجے کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھنا اتنا بڑا حادثہ ہے جس کو کوئی بھی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔
یہ دنیا میں اعمال کی بر بادی کا حال ہے۔ پھر آخرت میں جب آدمی اپنے اعمال کو ابدی طور پر برباد ہوتے ہوئے دیکھے گا تو اس کا کیا حال ہوگا۔
جب وہ دیکھے گا کہ عمر بھر کی محنت سے بنایا ہوا اس کا ڈھانچہ اچانک ڈھ پڑا۔ اس کی خوش گمانیوں کا قلعہ ایک ہی جھٹکے میں ہمیشہ کے لئے مسمار ہو گیا۔
جب وہ دیکھے گا کہ دنیا میں محنت کے ساتھ حاصل کی ہوئی کمائی آخرت میں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی دنیا میں کھڑا کیا جانے والا عظمتوں کا گنبد آخرت میں گرا ہوا پڑا ہے۔ دنیا میں جمع کی ہوئی نیک نامی آخرت میں بالکل بے قیمت ہو چکی ہے۔
جس آدمی نے اپنی دوڑ دھوپ کو صرف دنیا میں لگایا ہو اس کا آخرت میں یہی حال ہوگا کہ وہاں وہ بالکل مفلس بن کر کھڑا ہوگا۔ وہاں اس کی حیثیت صرف ایک لٹے پٹے انسان کی ہوگی۔ یہ منظر آدمی کیلئے ناقابل برداشت حد تک سخت ہوگا۔ کامیابیوں پر فخر کرنے والے ناکامی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہوں گے۔ ترقیات پر ناز کرنے والے ایسے بدحال دکھائی دیں گے جیسے انہوں نے کبھی ترقی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues