خلائی تہذیب
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۸
خلائی تہذیب
مغربی دنیا پچھلے ۲۰ سال سے ایک انوکھی تحقیق میں مشغول ہے۔ یہ ہے خلا میں زندہ مخلوقات کی آواز کو سننا :
Listening for life in space
بظا ہر اس تلاش کا محرک جدید علماء کا وہ مفروضہ ہے جس کو ارتقاء کہا جاتا ہے۔ مغربی علماء نے زندگی کی جوارتقائی تو جیہہ کی ہے، اس کے مطابق لازم آتا ہے کہ وسیع خلا میں دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح زندگی کی انواع موجود ہوں جس طرح وہ ہماری زمین پر پائی جاتی ہیں۔ خلا میں سفر کا ایک خاص مقصد ان زندگیوں سے ملاقات ہے۔ اس مفروضہ پر ان کو اتنا یقین ہے کہ اس کا ایک خاص نام بھی دے دیا گیا ہے یعنی بالا کےا تہذیب (Extra-terrestrial civilization) اس کے علاوہ امریکہ میں اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں خاص طرح کے بہت بڑے بڑے اینٹینا (Antenna) لگائے گئے ہیں، جن کو عام زبان میں ریڈیائی کان (Radio ears) کہتے ہیں۔ ان مشینوں سے بالائے خلا میں سگنل بھیجے جاتے ہیں اور حساس قسم کے آلات ہر وقت تیار رہتے ہیں کہ اوپر سے آنے والے متوقع سگنل کو سن سکیں ۔
ایک مبصر نے ان کوششوں پر تبصرہ (ٹائم میگزین ۲۱ مارچ ۱۹۸۳) کرتے ہوئے اس کی روح کو ان مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے : اگر تم واقعی وہاں ہو تو اپنے دوستوں سے بولو : If your are really there, please call your friends. زمین پر زندگی اور شعور کا وجود ساری معلوم کائنات میں ایک انتہائی نادر اور مستثنیٰ واقعہ ہے۔ چونکہ یہ شعور اپنا خالق آپ نہیں، اس لئے اس کا وجود لازمی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ یہاں زندگی اور شعور کا ایک اور خزانہ زیادہ بڑی سطح پر موجود ہو جو زمین کی زندگی اور شعور کا سرچشمہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زندہ انسان کی موجودگی زندہ خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ جدید انسان اس امکان کو بالواسطہ انداز میں تسلیم کرتا ہے۔ البتہ وہ اس وجود کو خلائی زندگی قرار دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ یہ وجود ہماری ہی طرح کا ایک وجود ہے نہ کہ ہم سے برتر کوئی وجود ۔ وہ محض ایک تہذیب ہے نہ کہ کوئی خالق اور مالک خدا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues