دولت کا فریب
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲
دولت کا فریب
کوالالمپور کے اخبار نیواسٹریٹس ٹائمز (New Straits Times) کی اشاعت ۲۸ جولائی ۱۹۸۴ میں ایک خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی نژاد امریکی کارپینٹر ونیو پیگانو (Venero Pagano) جس کی عمر ۴۳ سال ہے اور وہ نیو یارک کے قریب رہتا ہے۔ وہ آٹھ سال سے بے روزگار تھا اور یونین کی پنشن سے اپنا کام چلا رہا تھا۔ اس کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ اپنے مکان سے متصل زمین پر حسب منشا ٹماٹر کی کاشت کر سکے۔
مذکورہ کارپینٹر نے لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا۔ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ کو اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کو اول انعام ملا ہے۔ یہ انعام ۲۰ ملین ڈالر تھا۔ یہ اب تک کے لاٹری انعاموں میں دنیا بھر میں سب سے بڑا انعام ہے۔
انعام کی خبر سب سے پہلے ٹیلی وژن پر آئی۔ اس کے فورا بعد اس کے لئے پریس کانفرنس کی گئی۔ اس نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ خبر کو سن کر میں ششدر رہ گیا۔ میں بار بار اپنے نمبر کو اعلان شدہ نمبر سے ملا کر چیک کرتا رہا اور ابھی تک مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ انعام مجھ کو ملا ہے۔ خبر سن کر وہ بھاگ کر اندر کمرہ میں گیا اور اپنی بیوی کو جگا کر کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم لوگ کروڑ پتی ہو گئے ہیں۔ اس نے اخبار نویسوں سے کہا کہ مجھ کو جو ضرورت تھی وہ میں نے پالیا۔ میں نے اپنا مکان پالیا۔ میں نے اپنے ٹماٹر پالئے۔
I got whatever I need. I got my house. I got my tomatoes. دنیا میں آدمی کے پاس دولت ہو تو اس کا ہر کام پورا ہو جاتا ہے۔ اس لئے آدمی سمجھتا ہے کہ دولت سب کچھ ہے ۔ دولت مل جائے تو آدمی سمجھتا ہے کہ اس نے سب کچھ پا لیا۔ حالاں کہ سب کچھ پا نا یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی رحمتوں کو پالے۔
موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی جن مسائل سے دو چار ہے ان سے بالکل مختلف وہ مسائل ہوں گے جن سے آدمی موت کے بعد کی زندگی میں دو چار ہو گا۔ آج دولت کی اہمیت ہے، اس وقت ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہوگی۔ آج چیزیں بازار سے حاصل ہوتی ہیں، اُس وقت تمام چیزیں خدا کی رحمت کے خزانے سے ملیں گی۔ آج مادی قوانین کے تحت آدمی کو مقام ملتا ہے، اس وقت اخلاقی قوانین یہ فیصلہ کریں گے کہ آدمی کو کیا ملے اور کیا نہ ملے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1984 All issues