Al-Risala · February 1984 · page 16

اختلاف کا سبب

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶

اختلاف کا سبب

احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد مسلمانوں کو سب سے زیادہ جس خطرہ سے ڈرایا تھا وہ آپس کا اختلاف تھا۔ یہ اندیشہ آج مسلمانوں کے بارہ میں پوری طرح صحیح ثابت ہو چکا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آج کی دنیا کی واحد قوم ہیں جو سب سے زیادہ آپس میں لڑتے ہیں۔ جن کے درمیان سب سے زیادہ باہمی جھگڑا برپا رہتا ہے۔

مسلمانوں کے درمیان اس کمزوری کی ایک خاص نفسیاتی وجہ ہے، اور وہ ہے چھوٹا احساس برتری۔ مسلمان اپنے مخصوص عقائد کی وجہ سے ہمیشہ اُس وقت جھوٹے احساسِ برتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جب کہ خدا کا خوف ان کے دلوں سے نکل گیا ہو۔

مسلمان کا عقیدہ ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ حق صرف وہ ہے جو اس کے پاس ہے۔ دوسری طرف اس کا عقیدہ اس کو یہ بھی بتاتا ہے کہ خدا ہی طاقت ور ہے، باقی سب لوگ عاجز ہیں۔ اس طرح مسلمان بیک وقت دو احساسات کے درمیان ہوتا ہے۔ بندوں کی نسبت سے سب سے بہتر ہونے کا احساس ، اور خدا کی نسبت سے سب سے کم تر ہونے کا احساس ” صرف میرے پاس حق ہے ، میرے سوا کسی کے پاس حق نہیں “ یہ عقیدہ عین اپنی فطرت کے مطابق آدمی کے اندر اپنی برتری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف یہ احساس کہ خدا ہی ہر چیز کا مالک ہے، میرے پاس اپنی کوئی چیز نہیں ، یہ احساس اس کے اندر عجز کا جذبہ ابھارتا ہے۔ اس طرح یہ دوسرا احساس پہلے احساس کو متوازن کرتا رہتا ہے۔ اپنے کو خیر امت سمجھتے ہوئے بھی آدمی دوسروں کے درمیان اس طرح رہتا ہے گو یا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

مگر جب مسلمانوں کے اندر بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو ان کے اندر سے جو چیز نکل جاتی ہے وہ یہی خدا کا ڈر ہے۔ اب مسلمان بے جان عقیدہ کے طور پر خدا کو مانتے ہیں۔ خدا کی عظمت اور کبریائی کے احساس سے ان کا دل خالی ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وہ خاص نفسیات ہے جو ان کے درمیان آپس کی لڑائی کو جنم دیتی ہے۔ سمندر کا پانی اگر اڑ جائے تو وہاں صرف نمک باقی رہے گا۔ اسی طرح ” میں حق پر ہوں “ کے احساس سے جب ” میں عاجز ہوں “ کا احساس نکل جائے تو اس کے بعد آدمی کے اندر جو چیز باقی رہے گی وہ صرف اپنی برتری کا جذبہ ہے۔ اور برتری کا جذبہ عجز سے خالی ہونے کے بعد ظلم اور فساد کے سوا کوئی اور چیز آدمی کے اندر پیدا نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page