Al-Risala · February 1984 · page 18

کی عجیب لوگ

الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۱۸

انھں نے اپنی موجودہ صورت حال سے مطابقت کرلی ہے۔ مگر وہ مطابقت اس طرح ہے کہ اپنی عظمت کا احساس بدستور انھیں حاصل ہے، وہ اس سے محروم نہیں ہوئے۔ انھوں نے ایسا کیا ہے کہ انھوں نے برطانی عظمت کو مغربی عظمت میں تبدیل کر لیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو بڑائی انھیں برطانیہ کی سطح پر حاصل نہیں ہے وہ آج بھی ان کو مغرب کی سطح پر حاصل ہے۔ ’’ جب ہم خود بھی اسی مغرب کا حصہ ہیں تو ہم کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ‘‘ برطانی قوم نے جب دیکھا کہ وہ اپنی عظمت کو انفرادی سطح پر قائم نہیں رکھ سکتے ہیں تو انھوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر اپنی عظمت کو دوبارہ اجتماعی صورت میں حاصل کر لیا۔

دوسری طرف مسلم دنیا کا حال دیکھئے۔ پاکستان میں تقریباً ایک درجن بڑی بڑی اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔ یہ تمام تنظیمیں اور جماعتیں پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کی علم بردار ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کم از کم دو بار ایسا ہوا ہے کہ یہ جماعتیں متحدہ محاذ‘ بنا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی ہیں۔ پہلی بار صدر ایوب خاں کو حکومت کے عہدہ سے ہٹانے کے لئے اور دوسری بار ذوالفقار علی بھٹو کو ہٹانے کے لئے جو اس وقت وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز تھے۔ دونوں بار یہ جماعتیں منفی مقصد میں کامیاب ہو گئیں۔ انھوں نے ایوب خاں کو بھی حکومت سے نکال دیا اور بھٹو کو بھی۔ مگر اس کے بعد جب وہ وقت آیا کہ پاکستان کی یہ اسلامی تنظیمیں اور جماعتیں مل کر اسلامی نظام قائم کریں اور ملک کو اسلامی تہذیب اور اسلامی سیاست کا نمونہ بنادیں تو تمام جماعتیں ایک دوسرے سے الگ ہو گئیں۔ اب ہر جماعت یہ چاہنے لگی کہ اس کو تنہا حکومت کی کرسی مل جائے چونکہ یہ ممکن نہ تھا، ان میں سے کوئی بھی حکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ صدر ایوب کے ہٹنے کے بعد بھٹو نے حکومت پر قبضہ حاصل کر لیا اور وزیر اعظم بھٹو کے بعد جنرل ضیاء الحق نے۔

پاکستان کے ’’ اسلام پسند‘‘ لیڈر اگر برطانیہ کے ’’کفر پسند ‘‘ لیڈروں کی طرح ہوتے تو وہ اپنی قوم کے دوسرے ہم مذہبوں کی عظمت میں اپنی عظمت دیکھ لیتے۔ اور پھر ایک دوسرے سے مل جانے نہ کہ الگ الگ ہو کر اپنے کو کمزور کر لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پاکستان میں وہ اسلامی نظام عملاً قائم ہو چکا ہوتا جس کے لئے ابھی تک وہاں صرف پر جوش الفاظ بولے جا رہے ہیں جن لوگوں کے اندر کافرانہ نظام و قائم کرنے کی بھی صلاحیت نہیں وہ اسلامی نظام قائم کرنے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ آسمان نے اس سے زیادہ عجیب منظر شاید کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues

Printed page