اجتماعی مسائل
الرسالہ، فروری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷
آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کی ہستی کا جو پہلو بھی دنیا میں ظاہر ہو وہ درست شکل میں ظاہر ہو، فطرت کے سیدھے راستے سے وہ کسی حال میں انحراف نہ کرے۔ انسان کا پورا وجود خدا کی پکڑ میں ہے اس لئے خدا کا عقیدہ انسان کے پورے وجود کو متاثر کرنے والا بن جاتا ہے۔
۱۔ روح کو چھوڑ کر صرف جسم پر توجہ دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر متکامل شخصیت (Integrated personality) نہیں پیدا ہوتی۔ اپنے اندر کی کا احساس اس کو مستقل طور پر غیر مطمئن رکھتا ہے۔ وہ اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کو جو کچھ پانا چاہئے تھا وہ ابھی تک اس کو نہ پا سکا۔ یہ احساس محرومی اکثر حالات میں سماجی برائیوں کا سبب ہے۔ سماج کے اندر ظلم و فساد کی حقیقت دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بے چینی کو دوسرے کے اوپر انڈیل دینا چاہتا ہے۔ ایک آدمی اپنی محروم خواہشوں کی تکمیل کے لئے دوسرے کے استغلال کا منصوبہ بناتا ہے مگر جب خدا کا عقیدہ اس کے ذہن میں اتر جائے تو اس کے بعد اس کے اندر متکامل شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد روح (Complex-free soul) بن جاتا ہے جس کو قرآن میں نفس مطمئنہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد اگر اس کے پاس کم ہو تو اس کے اندر احساس کمتری کی برائیاں پیدا نہیں ہوتیں۔ اس کے پاس زیادہ ہو تو وہ احساس برتری کے مرض میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ ہر حال میں ایک معتدل انسان بنا رہتا ہے۔ اور یقینی طور پر یہی وہ چیز ہے جو کسی شخص کو بہتر سماجی فرد بناتی ہے۔ ۲۔ دوسری چیز احساس ذمہ داری ہے۔ احساس ذمہ داری ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ اس کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے جو اس کو اپنی پکڑ میں لے سکتی ہے۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے سامنے ایسی کوئی بلند تر طاقت باقی نہیں رہتی جس سے آدمی اندیشہ کرے اور جس کے سامنے جواب دہی کا احساس اس کو مجبور کرے کہ وہ سچائی پر قائم رہے۔ اس کے برعکس جب آدمی قادر مطلق خدا کو مانتا ہے تو اس کے فوراً بعد اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ مجھے اس کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ جواب دہی کا خیال اس کو اپنے قول و عمل میں بے حد حساس بنا دیتا ہے۔ یہ جذبہ اس کی پوری زندگی کو منظم کرتا ہے۔ وہ اس کے اوپر نگراں بن جاتا ہے۔ وہ اس کو ظلم اور استحصال (Exploitation) کے راستوں سے بچاتا ہے اور ہمیشہ انصاف اور بھلائی کو اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مشہور انگریز جج سر میتھیو میل (۶۷ ۱۴ - ۱۹۰۹) نے بجاطور پر لکھا ہے کہ " یہ کہنا کہ مذہب ایک فریب ہے، ان تمام ذمہ داریوں اور پابندیوں کو منسوخ کرنا ہے جن سے سماجی نظم کو برقرار رکھا جاتا ہے"
‹ Previous page Next page › Contents of February 1984 All issues