کائناتی مشین
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴
جمہوریت کی قیمت اسرائیل کا ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا۔ اس کے اصل الفاظ یہ تھے:
تل ابیب کی ایک کمپنی کا ڈائریکٹر لامتناہی میٹنگوں سے سخت اکتا چکا تھا۔ اس نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ اگر بنی اسرائیل کی رہنمائی حضرت موسیٰ کے بجائے ایک کمیٹی کر رہی ہوتی تو بنی اسرائیل ابھی تک مصر ہی میں ہوتے (ریڈرز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۴) مجلس اور کمیٹی کی بحثوں کا جن لوگوں کو تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان میں کس قدر بے فائدہ باتیں ہوتی ہیں ۔ لفظی نکتے، دور از کار امکانات، غیر اہم پیش بندیوں پر لوگ اس قدر بحث کرتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ راقم الحروف اس دنیا میں جن چیزوں سے پناہ مانگتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا اس کو کبھی کسی مجلس یا کمیٹی کا ممبر نہ بنائے۔ کوئی بڑا کام اجتماعی کوشش سے ہوتا ہے۔ اور اجتماعی کوشش میں ہمیشہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صورت کیا ہو ۔ اختلاف رائے کو اتحاد عمل کے ساتھ کس طرح مطابق کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک شخصی اعتماد اور دوسری، جمہوریت۔ اول الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی اپنی رائے دیتے ہیں مگر بالآخر مرکزی قائد کی رائے کو تمام لوگ بلا بحث مان لیتے ہیں۔ ثانی الذکر میں یہ ہوتا ہے کہ جو معاملہ پیش آتا ہے اس پر ہر شخص کی الگ الگ رائے لی جاتی ہے اور جس طرف رایوں کی کثرت ہوتی ہے اس کو اختیار کر لیا جاتا ہے۔ بظاہر ثانی الذکر طریقہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس طریقہ میں کام کم ہوتا ہے اور بحث مباحثہ زیادہ۔ اسلام میں درمیان کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرکزی قائد کو منتخب کرنے میں عوامی رائے کا پورا لحاظ کیا جاتا ہے مگر جب عوامی رائے سے ایک امیر کا انتخاب ہو جائے تو اس کو اسی طرح مکمل اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جیسے موجودہ زمانہ میں امریکہ کے صدر کو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues