Al-Risala · January 1985 · page 11

حسن سلوک

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱

حسن سلوک

سماج میں جو لوگ بے سہارا ہو گئے ہوں ان کا سہارا بننا بہت بڑی عبادت ہے، ماں باپ آخری عمر کو پہنچ جائیں۔ ایک بچہ یتیم ہو گیا ہو۔ ایک شخص اپنے وطن سے دور سفر کی حالت میں کسی شکل میں پھنس جائے ۔ اس طرح کی دوسری صورتیں جب کہ آدمی کی ضروریات تمام تر دوسروں کے اوپر منحصر ہو جاتی ہیں، اس وقت کسی کی مدد کرنا، ایسے نازک وقتوں میں کسی کے کام آنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس کا بہت ثواب ہے۔ اس کی اہمیت قرآن سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی۔

اس طرح کے عمل کی اتنی افضلیت کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کا عملی اقرار ہے۔ ہر انسان خدا کے سامنے کامل طور پر عاجز ہے۔ ہر آدمی کو خدا کے دئے سے ملتا ہے اور اسی کے چھینے سے چھن جاتا ہے۔ اسی کی معرفت کا نام ایمان ہے اور اسی کو مراسم عبودیت کی شکل میں ادا کرنے کا نام پرستش ہے۔

لیکن آدمی اپنے ایمان اور اپنی عبادت میں سچا ہے یا نہیں ، اس کی صحیح جانچ اس وقت ہوتی ہے جب کہ ایک کمزور اور بے سہارا انسان سے اس کا سابقہ پڑے۔ ایسے ہر موقع پر گویا ایک شخص ہمارے سامنے اسی حالت عجز میں لایا جاتا ہے جس حالت عجز میں خود ہم کو خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ اپنے جس احتیاج کی بنا پر ہم خدا سے اپنے لئے مدد کے طلب گار ہیں اسی احتیاج میں مبتلا ایک شخص ہمارے سامنے کر دیا جاتا ہے تاکہ ہم کسی استحقاق اور دباؤ کے بغیر اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے خدا سے کہیں کہ خدا یا تو بھی ہمارے ساتھ بہتری کا معاملہ فرما جب کہ تیرے اوپر نہ ہمارا کوئی حق ہے اور نہ کوئی دباؤ۔

عاجز انسان کے ساتھ حسن سلوک در اصل خدا کے سامنے اپنی حیثیت عجز کا اقرار ہے۔ یہ اپنی دعا کو خدا کے آگے عمل کی صورت میں دہرانا ہے۔ یہ خدا کے سامنے اپنی بے یار ومددگار حیثیت کی دریافت ہے ایک مومن جب کسی ایسے آدمی کو دیکھتا ہے تو اس کے روپ میں وہ خود اپنے آپ کو خدا کے مقابلہ میں دیکھنے لگتا ہے۔

یہ اور اک اس کو تڑپا دیتا ہے وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس بے سہارا آدمی کو وہ سب کچھ دے دے جو اس کے پاس ہے۔ تاکہ وہ اپنے خدا سے وہ سب کچھ پاسکے جو خدا کے پاس ہے۔ دوسرے کی مدد کرنا گویا خدا سے یہ دعا کرنا ہے کہ خدا یا تو بھی اسی طرح میری مدد کر۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page