Al-Risala · March 1985 · page 36

آیت فتنہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶

فتنہ میں ڈالا جاتا تھا۔ لوگ اس کو قتل کر دیتے یا عذاب دیتے۔ یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہوگئی۔ پھر فتنہ باقی نہ رہا (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ ۲۸ - ۲۷)

خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ مسلمانوں کو سیاسی شکایت ہوگئی۔ وہ مدینہ میں گھس آئے اور آپ کے مکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ حضرت عثمان اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور باغیوں سے کہا کہ تم جو میرا محاصرہ کئے ہوئے ہو اور میرے قتل کے درپے ہو، کیا اپنے اس فعل کے حق میں تمہارے پاس قرآن کی کوئی دلیل ہے۔ ایک باغی آگے بڑھا اور اس نے کہا ہاں۔ اس کے بعد اس نے قرآن سے جہاد اور قتال والی آیتیں پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔

باغیوں کے نزدیک اپنے عمل کے لئے ان آیتوں کا حوالہ درست تھا۔ کیوں کہ اپنے خیال میں وہ ایک بگڑی ہوئی حکومت کے خلاف جہاد کر رہے تھے اور جہاد کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ مگر حضرت عثمان نے ان کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آیتیں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حق میں نازل نہیں ہوئیں۔ یہ میرے اور میرے ساتھیوں (صحابہ) کے حق میں اتری ہیں۔

حضرت عثمان کا جن لوگوں نے محاصرہ کر رکھا تھا وہ سب مسلمان تھے۔ ان کے پاس اپنے محاصرہ کو برحق ثابت کرنے کے لئے قرآن کی آیتیں بھی تھیں۔ مگر صحابہ نے اس معاملہ میں ان سے اتفاق نہیں کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ انھوں نے قرآنی آیات کی تفسیر اور تشریح میں غلطی کی اخطأوا في التأويل) یعنی جن آیتوں کا تعلق کافروں اور مشرکوں سے ہے۔ ان کو انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ "خوارج" سب کے سب مومن ومسلم تھے۔ وہ دیندار اور عبادت گزار بھی تھے۔ وہ ہر بات میں قرآن کی آیتیں پیش کرتے تھے۔ مگر خلیفہ چہارم حضرت علی کے خلاف ان کی جنگ کو امت نے کبھی صحیح نہیں قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے خوارج کی لڑائیوں کے بارہ میں فرمایا کہ ان کی غلطی یہ ہے کہ قرآن کی وہ آیتیں جو کافروں اور مشرکوں سے جنگ کے بارہ میں اتری ہیں ان کو انھوں نے مسلمانوں کے اوپر منطبق کر دیا ہے۔ وہ قرآن کی تحریف کر رہے نہ کہ قرآن کی تفسیر۔

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کی انقلابی اسلامی جماعتیں جو اپنے ملکوں میں مسلم حکمرانوں سے اصلاح سیاست کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔ اس قسم کی لڑائیوں کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تمام مفکرین اسلام در حقیقت مجرمین اسلام ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی باہمی جنگوں کو جہاد فی سبیل اللہ ثابت کرنے کے لئے اپنی ذہانت صرف کر رہے ہیں۔ اس قسم کے اعمال کے لئے قرآن کی آیتیں پیش کرنا بے عملی پر سرکشی کا اضافہ کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page