Al-Risala · January 1985 · page 13

یہ لیڈر

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۳

یہ لیڈر

مسٹر جناح اور پاکستان کے بارہ میں حال میں لندن سے ایک کتاب چھپی ہے۔ مصنف کا نام اور کتاب کا نام حسب ذیل ہے :

Jinnah of Pakistan, by Stanley Wolpert

اس کتاب میں آزادی سے قبل کی ہندوستانی سیاست پر بہت سی دلچسپ باتیں درج ہیں۔ اس کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے :

Congress leaders had different views from Jinnah regarding the politi- cal set-up in the country. Before the demand of Pakistan, Jinnah was asking for a loose federation with the Centre having limited powers and residue powers resting with the states. On the other hand, the whole thrust of the nationalist politics of the Congress was in the direction of a strong Centre. Jinnah could not have gone along with Congress leaders. ملک کے سیاسی ڈھانچہ کے بارہ میں کانگریسی لیڈروں کا نقطہ نظر جناح کے نقطہ نظر سے مختلف تھا۔ پاکستان کے مطالبہ سے پہلے جناح کا مطالبہ ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مرکز کے اختیارات محدود ہوں اور بقیہ اختیارات ریاستوں کو حاصل رہیں۔ دوسری طرف کانگریس کی قومی سیاست کا پورا زور اس رخ پر تھا کہ مرکز مضبوط ہو۔ جناح کا نگریسی لیڈروں کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے (ٹائمز آف انڈیا 11 نومبر ۱۹۸۰) مسٹر جناح کیوں آزاد ہندوستان میں ایک کمزور سیاسی مرکز چاہتے تھے۔ اور کانگریسی لیڈر کیوں طاقتور مرکز پر زور دیتے تھے۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان لیڈروں کی نگاہ سیاسی پارٹیوں کے رزولیوشن کے الفاظ پر تو خوب تھی مگر ان میں سے کوئی لیڈر ان تاریخی حقیقتوں کو نہ دیکھ سکا جو کسی ملک کی تشکیل میں اصلاً فیصلہ کن ہوا کرتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں یہود کے دین کو برابر کے درجہ میں تسلیم کر لیا (الیھود دينهم وللمسلمين دينهم) اسی طرح صلح حدیبیہ کے وقت آپ ایسی دفعات پر راضی ہو گئے جو مکہ کے اوپر منکرین اسلام کی بالا دستی کے اعتراف کے ہم معنی تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی نظر حال پر نہیں تھی بلکہ مستقبل پر تھی۔ آپ جانتے تھے کہ وقتی معاہدہ میں خواہ جو لفظ بھی لکھ دیا جائے ، بالآخر مکہ اور مدینہ کا فیصلہ وہ تاریخ کرے گی جو اسلامی دعوت کے نتیجہ میں عرب میں بننا شروع ہوتی ہے۔ اسی پیغمبر کے ماننے والوں کا حال آج یہ ہے کہ وہ سامنے کی باتوں کے سوا کوئی اور بات جانتے ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page