Al-Risala · April 1985 · page 6

نفی ذات

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۶

نفی ذات

حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو قرآن میں احسن القصص (بہترین قصہ) کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی اس بات کی ایک تاریخی مثال ہے کہ کس طرح خدائی مدد واقعات کے دھارے کو پھیر دیتی ہے۔ وہ ایک اسور القصص کو احسن القصص بنا دیتی ہے۔

حضرت یوسف کے دشمنوں نے آپ کو کنویں میں ڈال دیا۔ مگر خدا نے آپ کو کنویں سے نکال کر مصر کے تخت پر پہنچا دیا۔ جہاں آپ کے مخالفین نے آپ کی کہانی ختم کرنی چاہی تھی وہیں سے آپ کی ایک نئی شاندا رتر کہانی شروع ہوگئی۔

سورہ یوسف میں آنجناب کا قصہ بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے : یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہو گئے اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ پھر ہم نے جس کو چاہا بچا لیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاتا ۔ (یوسف - ۱۱۰)

اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی مدد مایوسی کی حد پر پہنچ کر ملتی ہے" مایوسی "سے مراد وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنا سب کچھ دے کر خالی ہو چکا ہو۔ اس کے پاس مزید کچھ دینے کے لئے باقی نہ رہے۔ جب وہ محسوس کرنے لگے کہ بندگی کی حد ختم ہو گئی۔ اب وہ درجہ آگیا ہے جہاں سے خدائی کا حد شروع ہوتی ہے۔ عین اس وقت خدا کی مدد آ جاتی ہے۔ ناکامی کی انتہا کا میابی کا آغاز بن جاتا ہے۔ بیج کا ختم ہونا ایک درخت کو وجود دیتا ہے۔ یہی معاملہ خدا اور بندے کا بھی ہے۔ آدمی خدا کی مدد کا مستحق اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو خدا کے لئے مٹا دے۔ جہاں اعتماد خویش ختم ہو جائے وہاں سے اعتماد علی اللہ کا آغاز ہوتا ہے۔

خدا بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر خدا کو پانا ، ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ آدمی اپنی نفی نہیں کرتا اسی لئے وہ خدا کو پانے والا بھی نہیں بنتا ۔ خدا ہر چیز کا بدل ہے۔ خدا کو پانا سب کچھ کو پالینا ہے۔ مگر انسان کی یہ نادانی بھی عجیب ہے کہ وہ بے کچھ کے لئے سب کچھ کو کھو دیتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں خدا سے محروم ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page