خدا کا عقیدہ
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۸
خدا کا عقیدہ
میں نئی دہلی میں گیٹ آف انڈیا کے سامنے کھڑا تھا۔ گیٹ آف انڈیا تعمیر اور سنگ تراشی کا بے حد حسین نمونہ ہے ۔ وہ مشاہدہ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ انسان کیسی انوکھی صلاحیتوں کا مالک ہے وہ ’’ گیٹ آف انڈیا‘‘ جیسی ایک چیز کو پیشگی طور پر سوچتا ہے۔ وہ کا منصوبہ بناتا ہے اور پھر عملاً اس کو وقوع میں لاتا ہے۔
اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اگر تمام ستاروں اور سیاروں اور تمام درختوں اور جانوروں سے کہا جائے کہ وہ ایک ’’ گیٹ آف انڈیا ‘‘ بنادیں تو سب مل کر بھی اس کے جیسی ایک عمارت نہیں بنا سکتے ۔
یہی دوسرے تمام انسانی واقعات کا حال ہے۔ انسان جو کام کرتا ہے وہ اس کی انتہائی نادر استثنائی خصوصیت ہے۔ معلوم کائنات میں کوئی بھی دوسری مخلوق اس قسم کے کام کو انجام نہیں دے سکتی جس کو انسان اپنی عقل اور اپنے ہاتھ پاؤں کو استعمال کر کے انجام دیتا ہے۔ خواہ وہ ایک گیٹ آف انڈیا کو بنانا ہو یا ایک پیچیدہ مشین کو چلانا۔
انسان سے خدا کو یہ مطلوب تھا کہ وہ خدا کی شعوری معرفت حاصل کرے۔ وہ اپنی عقل سے خدا کو پہچانے۔ اس لئے اس نے انسان کو ایسی ممتاز تخلیق کے ساتھ پیدا کیا۔ جس طرح انسان ساری کائنات سے ممتاز ایک ہستی ہے، اسی طرح خدا انسان کے مقابلہ میں ایک ممتاز تر ہستی ہے۔ انسان اگر اس فرق پر غور کرے جو اس کے اور بقیہ کائنات کے درمیان ہے تو اس پر وہ اس فرق کو قیاس کر سکتا ہے جو اس کے اور خدا کے درمیان ہے۔ خدا اسی امتیازی فاصلہ کی آخری اور انتہائی شکل ہے۔ جس کا آدمی اپنے اور کائنات کے درمیان فاصلہ کے ذریعہ تجربہ کر رہا ہے۔ خدا کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا اپنے آپ کو سمجھنا۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایک مانی ہوئی چیز کو ماننا ہے۔ خدا کو دیکھنا ایک دیکھی ہوئی چیز کو دیکھناہے۔ انسان جس واقعہ کا ہر آن تجر بہ کر رہا ہے۔ اسی واقعہ کی توسیع کا دوسرا نام خدا کا عقیدہ ہے۔ انسان اس کائنات میں ’’ فل اسٹاپ ‘‘ نہیں۔ پھر اگر اس کائنات کے آگے انسان کا درجہ ممکن ہے تو انسان کے آگے خدا کا درجہ کیوں ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues