ہجرت کے بعد
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵
جارحیت کہا جا سکتا ہے ۔ غزوہ عشیرہ سے واپسی کی بعد آپ نے تقریباً دس دن مدینہ میں قیام کیا تھا کہ قریش کے ایک سردار کرز بن جابر فہری نے مدینہ کے قریب مسلمانوں کے ایک چراگاہ پر چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گیا (سیرۃ ابن ہشام جز ثانی ، صفحه ۲۳۸ ) اس واقعہ کے پیش نظر قریش کی حوصلہ شکنی ضروری تھی۔ چنانچہ آپ نے قریش کے تجارتی قافلوں کے اوپر دستے بھیجے ۔ یہ تجارتی قافلے مدینہ کے قریب سے گزرتے تھے ۔ آپ نے ان تجارتی قافلوں پر دستے بھیج کر قریش کو تنبیہ کی کہ اگر تم ہماری معاشیات کو برباد کرنا چاہتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھو۔ ایک سریہ (عبد الله بن جحش ) میں ایسا ہوا کہ ایک مسلمان نے ایک کافر کو قتل کر دیا۔ اس قتل کے سلسلے میں بعض روایات میں یہ الفاظ آئے ہیں : فکان ابْنُ الحضرمي اول قتيل قتل بين المسلمين والمشركين (تفسیر ابن کثیر ، جزء اول صفحه ۴۵ ) اس بنا پر بعض لوگوں کو غلط نہی ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ مدینہ پہنچ کر اسلام نے صبر کا طریقہ چھوڑ کر جنگ کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اور ابن الحضرمي کا قتل گویا اس بات کا اعلان تھا کہ اب اسلام کی طرف سے مسلح جد و جہد کا آغاز ہو چکا ہے۔
مگر واقعہ کی تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کا نظر یہ سراسر بے بنیاد ہے ۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ رجب ۲ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الله بن جحش کی سرکردگی میں ایک دستہ نخلہ کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ کل بارہ آدمی تھے۔ روانہ کرتے ہوئے آپ نے سردار سریہ کو ایک بند تحریردی اور فرمایا کہ اس کو اس وقت تک نہ کھولنا جب تک تم دو دن کا راستہ طے کر لو۔ دو دن کا راستہ طے کرنے کے بعد اس کو کھولنا اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرنا۔
دو دن کے بعد جب حضرت عبد اللہ بن جحش نے اس تحریر کو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا: جب تم میرے اس مکتوب کو دیکھو تو چلتے رہو یہاں تک کہ تم مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر پہنچ کر اترو اور وہاں قریش کو دیکھو اور ہم کو ان کی خبروں سے مطلع کرو لا اذا نظرت في كتابي هذا فامضِ حتى تنزل نخلة بين مكة وطائف فترصد بها قريشا وتعلم لنا من اخبار هم (سيرة ابن هشام، جزء ثانی ، صفحه (۲۳۹) اسی اثناء میں قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف جا رہا تھا۔ دستہ کے ایک شخص واقد بن عبد اللہ نے قافلہ کے سردار عمر و بن الحضرمی کو نشانہ لگا کر ایک تیر مارا۔ یہ تیر کسی نازک مقام پر لگا اور وہ مر گیا۔ دستہ جب مدینہ واپس آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ قتل کا واقعہ بتایا تو آپ نے فوراً کہا: ما امرتكم بقتال في الشهر الحرام (سیرۃ ابن ہشام ، جزء ثانی ، صفحه (۲۴۱) میں نے تم کو ماہ حرام میں کسی جنگ کا حکم نہیں دیا تھا۔ بالفاظ دیگر : اگر جنگ مقصود ہوتی تو کیا میں تم کو حرام مہینہ میں روانہ کرتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues