Al-Risala · May 1985 · page 3

خدا سے ڈرو

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳

خدا سے ڈرو

قرآن ، جیسا کہ معلوم ہے ، ۲۳ سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے اترا۔ اس کا آغاز اقرأ (پڑھ ) سے ہوا۔ پیغمبر کے واسطہ سے خدا انسان کو پڑھاتا رہا۔ وہ انسان کو اس کی زندگی کی تعمیر کے بارہ میں وہ تمام باتیں بتاتا رہا جس کو وہ خود سے نہیں جان سکتا تھا۔ اس طرح خدا کتاب ہدایت کے اجزاء بھیجتا رہا۔ یہاں تک کہ خدائی منصوبہ کے مطابق جب کتاب پوری ہو گئی تو اس کی آخری آیت اتری۔ یہ ایک لمبی آیت ہے جو موجودہ قرآن میں سورہ مائدہ کی تیسری آیت کے طور پر شامل ہے۔ اس آیت کا ایک حصہ یہ ہے:

الیوم یئس الذین کفروا من دینکم آج منکرین تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ، پس فلا تخشوہ و اخشون الیوم اکملت ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتي ورضيت لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تمہارے اوپر لكم الاسلام دينا ( المائدہ ۳ ) اپنے انعام کو پورا کر دیا۔

اس آیت سے مسلمانوں نے اپنے لئے فخر کی غذا تو بہت لی ہے مگر اس سے انھوں نے سبق کی غذا نہیں لی۔ ہر مسلمان آپ کو یہ فخر کرتا ہوا ملے گا کہ ہمارا دین کامل ہے۔ مگر ایسے لوگ آپ کو نہیں ملیں گے جو اس سے اس سبق کو لینے کی کوشش کریں جو اس آیت میں ہمارے لئے رکھ دیا گیا ہے۔ "تم اب لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ صرف خدا سے ڈرو" اس سے یہ تعین ہورہا ہے کہ مسائل میں مسلمانوں کے سوچنے کا انداز کیا ہونا چاہئے۔ وہ یہ ہونا چاہئے کہ مسلمان اپنے مسائل و مشکلات میں انسان کی طرف نہ دیکھیں بلکہ خدا کی طرف دیکھیں۔

انسانوں کی طرف سے معاملہ پیش آئے تب بھی وہ خدا کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔ وہ خدا کے ساتھ اپنے معاملہ کو درست کر کے سمجھیں کہ انسانوں کے ساتھ بھی ان کا معاملہ درست ہو جائے گا۔ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین چونکہ آخری دین ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اس حد تک محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے کہ کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے۔ مسلمان اگر اپنے دین پر قائم ہوں تو یہی ان کے استحکام کی یقینی ضمانت بن جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page