ہمارے مدارس
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
ہمارے مدارس
صحابہ ہمیشہ اساسات دین پر متوجہ رہتے تھے۔ مگر بعد کو عباسی خلافت کے زمانہ بحثیں دوسری قوموں کے اثر سے مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ وہ اساسات دین کے بجائے جزئیات دین کو طے کرنے میں الجھ گئے۔ ان کے درمیان عجمی قوموں کے اختلاط سے نئے نئے مسائل پر بحثیں ہونے لگیں۔ یہ بحثیں حقیقتہً ان امور پر نہ تھیں جو قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں۔ بلکہ زیادہ تر ان پہلوؤں پر تھیں جو لوگوں نے اپنے غیر ضروری قسم کے خوض و تعمق سے خود پیدا کیا تھا۔ فقہ میں جزئیاتی امور پر میں پیدا ہوگئیں اور اعتقادیات میں کلامی موشگافیوں سے پیدا شدہ مسائل لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔
اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت جو اسلامی نظام تعلیم بنا اس میں انھیں فقہی اور اعتقادی بحثوں نے سب سے زیادہ جگہ حاصل کرلی۔ حتیٰ کہ خود قرآن و حدیث بھی اب انھیں اختلافی بحثوں کی روشنی میں پڑھائے جانے لگے۔ یہ اندازِ تعلیم جو ابتداً عباسی دور میں رایج ہوا بعد کو مقدس بن کر اسلامی نظام تعلیم کا لازمی جز بن گیا اور آج بھی وہ کسی نہ کسی طرح اس کا لازمی جز بنا ہوا ہے۔ جو چیز صرف اسلام کی تاریخ تھی اس کو اسلام کی حقیقت سمجھ لیا گیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی درس گاہوں سے اس سے بالکل مختلف انسان بن کر نکلنے لگے جو قرآن کو مطلوب تھے۔ قرآن کو اسلامی تعلیم سے ایسے انسان مطلوب تھے جو اللہ سے ڈریں (انما يخشی اللہ من عبادہ العلماء) اور جو دنیا کے لوگوں کو آنے والے سخت دن سے ہوشیار کریں (ولينذ ر وا قومہم اذا رجعوا اليهم) مگر اب اسلام کے تعلیمی نظام سے ایسے لوگ پیدا ہونے لگے جو جزئیاتی بحثوں کے ماہر ہوں اور اختلافی مسائل میں کمال فن کی داد دے سکیں۔
اس فرق کا مزید شدید تر نقصان یہ ہوا کہ ہمارے مدارس قساوت اور بے حسی کی تربیت گاہ بن گئے۔ اگر آپ خدا کی عظمت کا تذکرہ کریں، اگر آپ جنت اور جہنم کو یاد کریں تو آپ کے اندر خشوع اور تقویٰ کے جذبات ابھریں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ ظاہری جزئیات اور لفظی موشگافیوں میں بحث و مباحثہ کریں تو اس سے صرف قساوت کو غذا ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مدارس خشوع کے بجائے غفلت اور قساوت کی پیداوار کا مرکز بن کر رہ گئے ہیں۔