Al-Risala · May 1985 · page 25

اور وہ غالب ہو گئے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

اور وہ غالب ہو گئے

قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اے ایمان لانے والو ، تم لوگ اللہ کے مددگار بنو جیسا کہ عیسی ابن مریم نے حواریین سے کہا کہ کون اللہ کے لئے میرا مددگار بنتا ہے۔ حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار ۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ منکر ہو گیا ۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور وہ غالب ہو گئے ( الصف ۱۴)

مگر واقعات بتاتے ہیں کہ مومنین مسیح بہت تھوڑے اور کمزور تھے اور مخالفین بہت زیادہ اور طاقت ور تھے۔ چنانچہ اس وقت عملاً جو ہوا وہ یہ کہ حضرت مسیح کی دعوتی جدوجہد کی تکمیل کے بعد یہود کے منکر طبقہ نے آپ کے ساتھیوں کو دبالیا اور بزعم خود پیغمبر کو سولی پر چڑھا دیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ فا صبحوا ظاهرین کا واقعہ کب اور کیوں کر پیش آیا۔

قصہ یہ ہے کہ وقتی طور پر منکرین مسیح کا گروہ غالب آگیا۔ انھوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کی کوشش کی مگر آپ کو خدا نے عزت کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔ مگر خدا کا قانون یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد انکار کو وہ معاف نہیں کرتا۔ چنانچہ جو کام مسیح کے ابتدائی مومنین نہ کر سکے اس کو دوسروں کے ذریعہ لیا گیا ۔ ے شدء میں رومی شہنشاہ تیتس نے یروشلم پر حملہ کیا اور مخالفین مسیح (یہود) میں کچھ کو ہلاک کیا اور کچھ کو دیس کر کے ان کے مرکز سے نکال دیا جس کے بعد وہ تتر بتر ہو گئے۔ دوسری طرف مسیح کے ماننے والوں (نصاریٰ) کو یہ موقع ملا کہ وہ مسیحیت کے مبلغ بن کر اطراف کے ملکوں میں پھیلے۔ وہ رومی شہنشاہیت میں داخل ہوئے۔ انھوں نے اپنی تبلیغ سے بہت سے لوگوں کو عیسائی بنایا۔ توسیع مسیحیت کا یہ عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ رومی شہنشاہ قسطنطین (۳۲۳-۳۳۷ء) نے مسیحیت قبول کر لی۔ یہ الناس علی دین ملوکہم کا زمانہ تھا۔ رومی شہنشاہ کے قبول مسیحیت کے بعد اس کی پوری مملکت میں مشرق سے مغرب تک مسیحیت پھیلنے لگی۔ حضرت مسیح کے رفع کے تین سو سال بعد یہ حال ہوا کہ رومی شہنشاہیت کے اکثر باشندے مسیحی بن گئے ۔ یہاں تک کہ مسیحیت دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن گیا۔ یہودی مسیحی قوموں کے محکوم ہو گئے ، حتی کہ موجودہ اسرائیل بھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page