دعوت میں انہماک
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱
نام لکھوائے۔ بجنور، چاند پور اور رام پور جیسے قریبی مقامات کے یہ دس دس آدمیوں کی جماعتیں بھی نہیں بن سکی تھیں۔ کئی آدمی ترغیب دلانے میں مصروف تھے اور اپنا پورا زور لگا رہے تھے مگر ناموں میں بالکل اضافہ نہیں ہو رہا تھا مولانا یوسف صاحب جو تقریر کرنے کے بعد مسجد کے اندرونی حصے میں چلے گئے تھے۔ لوگوں کی سرد مہری دیکھ کر یکایک اٹھے اور مائیکروفون ہاتھ میں لے کر فرمانا شروع کیا کہ " آج تم بجنور ، چاند پور، رام پور جیسے قریبی مقامات کے لیے اور صرف تین تین دن کا وقت دینے کے لیے تیار نہیں ہو رہے ہو، ایک وقت آئے گا جب تم شام جاؤ گے، مصر جاؤ گے، عراق جاؤ گے۔ مگر اس وقت اجر گھٹ جائے گا۔ کیونکہ اس وقت اس کا عام رواج ہو چکا ہوگا"۔ مولانا محمد یوسف کی یہ بات جو ۱۹۴۵ ء میں ایک خیالی بات معلوم ہوتی تھی، آج واقعہ بن چکی ہے۔ تبلیغی جماعتوں کی نقل و حرکت آج نہ صرف شام و عرب بلکہ یورپ، جاپان، امریکہ، افریقہ اور اقصائے مشرق سے اقصائے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ رات دن کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب تبلیغی جماعت کے وفود دنیا کے مختلف حصوں میں گشت نہ کر رہے ہوں۔
دعوت میں انہماک
مولانا محمد یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو جن لوگوں نے بھی قریب سے دیکھا ہے اور ایسے لوگ بلا شبہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہیں) وہ جانتے ہیں کہ مولانا کو اپنی دعوت میں کس قدر انہماک تھا۔ ایک صاحب جو لاہور میں نمازِ فجر کے بعد مولانا کی ایک تقریر میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد مولانا نے تقریر شروع کی اور پورے تین گھنٹے تک انتہائی جوش و خروش کے ساتھ مجمع کو خطاب کرتے رہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی لاوا پھوٹ پڑا ہے اور ماحول کو گرمات نہیں بلکہ پگھلائے جارہا ہے ۔ ۸ بجے خطاب ختم ہوا اور ناشتہ کا دسترخوان بچھا یا گیا ۔ مولانا نے دسر خوان پر بیٹھتے ہی پھر گفتگو شروع فرما دی اور اس انداز سے الفاظ زبان سے نکلنے لگے کہ گفتگو کے زور، استدلال کی ندرت اور مطالب کی آمد کو دیکھ کر کوئی شخص یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو ابھی تین گھنٹے کے زور دار خطاب سے فارغ ہوا ہے ایسا محسوس ہوتا تھا اگ بالکل تازہ دم