کامیابی کی فہرست
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۲
کامیابی کی فہرست
سید محمد کیرلا میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ ان کی غیرمعمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر ان کے ۸۰ سالہ انگریز استاد پروفیسر سٹیونس(Dr. (Dr. Cleveland Stevans) نے ۱۹۵۷میں کہا تھا کہ اے نوجوان شخص، ایک دن تم یہاں اپنے ملک کے نمائندہ بن کر آؤ گے۔ مگر میں اس وقت تم کو دیکھنے کے لئے موجود نہ ہوں گا:
Young man, one of these days you will come here to represent your country. But I would not be there to see you. یہ پیشین گوئی ۲۳ سال بعد پوری ہوئی۔ اور مسٹر سید محمد ہندوستان کے ہائی کمشنر بن کر لندن گئے ۔ سید محمد نے بیرسٹری سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہیں بہت سے اعلیٰ عہدے ملے۔ وہ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مندوب تھے۔ کیرلا کا بینہ میں وزیر ہوئے۔ مائنار ٹیز کمیشن کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سید محمد کے خاص دوستوں میں ایک مسٹر خوش ونت سنگھ بھی تھے۔ انہوں نے سید محمد کے بارہ میں ایک مضمون لکھتے ہوئے اس کو اس پیراگراف پرختم کیا ہے: Seyid's passions were politics and law. He had applied for the Congress-I ticket to fight the last Parliamentary elections. Going by his records he would have undoubtedly won it. Kerala State Congress bosses denied him the ticket. It broke Seyid's heart and a month later the setback took his life. سید محمد کا شوق سیاست اور قانون تھا۔ انہوں نے کانگریس آئی کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی تھی تاکہ حالیہ پارلمنٹری الیکشن میں لڑ سکیں۔ اپنے حالات کے لحاظ سے وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ کیرلا ریاستی کانگریس کے ذمہ داروں نے انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کیا۔ اس واقعہ نے سید محمد کا دل توڑ دیا اور ایک ماہ بعد اس حادثہ نے ان کی زندگی لے لی (ہندوستان ٹائمز ۲۴ مارچ ۱۹۸۵)
آج انسان کامیابیوں کی فہرست میں صرف ایک کمی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ حالانکہ انسان پر وہ دن آنے والا ہے جب کامیابیوں کی پوری فہرست اس سے چھن جائے گی۔ کیسا عجیب ہوگا وہ دن اور کیسا عجیب ہوگا اس دن انسان کا حال۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues