زر والے بے زور ہوں گے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹
لڑکا با ئیکل پر سوار ہوا۔ وہ گھنٹی بجاتا اور ہینڈل ادھر ادھر گھمانا ہوا خوشی سے چل رہا تھا۔ یہاں تک وہ ایک دکان کے سامنے جاکر رکا۔ اس نے اپنی با ئیسکل لام کھڑی کی اور دکان کے اندر چلا گیا۔ جب وہ رومال خرید کر باہر نکلا تو کیا دیکھا ہے کہ ایک سفید فام لڑکا اس کی بائیکل پر سوار ہو کر دوڑا چلا جا رہا ہے۔ اس نے دوڑ کر اس کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہا۔
پھولتی ہوئی سانس کے ساتھ جب اس نے ایک پولیس والے سے شکایت کی تو اس نے اس کے کالے رنگ کو دیکھ کر حقارت سے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ یہ موقع تھا کہ لڑکے کے نکتے بولی میں سفید فام لوگوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اُٹھتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا، بلکہ اس کے اندر خو داپنے اس احساسِ کے خلاف شدید جذبہ ابھرا کہ ہم اپنے کالے رنگ کی وجہ سے اسے نوکم کیوں سمجھتے ہیں۔ جس طرح سفید ایک رنگ ہے اسی طرح کالا بھی ایک رنگ ہے۔ پھر اس کی وجہ سے، ہم احساس کمتری میں کیوں مبتلا ہوں۔
لڑکے نے پولیس والے سے کہا کہ اگر مجھ کو وہ سفید فام لڑکا مل گیا تو میں اس کی ناک توڑ دوں گا پولیس والا ہنستا ہوا بولا " ’’جاؤ ، پہلے تم ناک توڑنے کی مشق کرو! " اس جملہ میں جو طنز چھپا ہوا تھا اس نے لڑکے کو آخری حد تک جھنجھوڑ دیا۔ اس نے طے کر لیا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے گا۔ اس نے اسی دن سے باکسنگ کی مشق شروع کر دی۔
یہ لڑکا محنت کرتے کرتے بالآخر ایک روز عالمی باکسنگ چیمپین بن گیا۔ اب خوب صورت، کٹ لک کا راباں کے گھر کے سامنے اس کی منتظر رہتی۔ وہ ان ہوٹلوں میں ٹھہرنے لگا جن میں صرف شہزادے اور سربراہانِ حکومت ٹھہرتے ہیں۔ وہ دنیا بھر کے اخبارات کے صفحہ اول میں جگہ پانے لگا ۔ ۔۔۔ محمد علی کملے تھے۔ تھا جس نے تمام باکسروں کو ہرا کر باکسنگ کا عالمی اعزاز حاصل کیا ہے۔
محمد علی کے پنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر میرا باپ اتنے کالے رنگ کی وجہ سے احساس کمتری کا اظہار نہ کرتا اور مجھ کو کار کے بجائے بائیسکل نہ دیتا تو آج میں عالمی باکسنگ کا چیمپین بھی نہ بنتا۔ یہ در اصل اپنے پیچھے ہونے کا احساس تھا جس نے میرے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues