Al-Risala · January 1985 · page 33

سائنسی ترقیاں اور روحانی عقائد

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

سے سماج میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ روحانیت آدمی کو ذہنی اور اخلاقی صحت عطا کرتی ہے۔ مادی خوراک سے آدمی کا جسم تندرست ہوتا ہے اور روحانی خوراک سے آدمی کے ذہن و فکر کو تندرستی حاصل ہوتی ہے۔

عام آدمی کے لئے مادی چیزیں مقصد ہوتی ہیں اور روحانی آدمی کے لئے ضرورت۔ نقطہ نظر کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میں زبردست فرق پیدا کر دیتا ہے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ روحانی آدمی کے اندر مادی نقصان کو برداشت کرنے کی بے پناہ طاقت آ جاتی ہے۔ موجودہ دنیا مقابلہ اور حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں بار بار مختلف قسم کے نقصانات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اب جو شخص مادی چیزوں کو اپنا مقصد سمجھ رہا ہو وہ نقصان کو دیکھ کر گھبرا اٹھتا ہے اس کے اندر سخت جھنجھلاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ حتی کہ بعض اوقات وہ خود کشی کر لیتا ہے۔ مگر روحانی آدمی اس قسم کی ناخوشگواریوں کو آسانی سے جھیل لیتا ہے۔ کیوں کہ مادی نقصان کے بعد بھی اس کے پاس ایک اعلیٰ چیز موجود رہتی ہے جس کے سہارے وہ جی سکے۔

اس طرح روحانی آدمی اس سب سے بڑی برائی سے خالی ہوتا ہے جس کو گھمنڈ کہا جاتا ہے۔ گھمنڈ ہمیشہ مادی چیزوں کے بل پر پیدا ہوتا ہے۔ لوگ چونکہ مادی چیزوں کو سب سے بڑی چیز سمجھتے ہیں اس لئے وہ ان کو پا کر گھمنڈ میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو مادی سازوسامان سے ناپتے ہیں۔ اس لئے جس شخص کے پاس مادی سازوسامان کم ہو اس کو نیچا خیال کرتے ہیں اور جس شخص کے پاس مادی ساز و سامان زیادہ ہو اس کی بابت ان کا خیال ہو جاتا ہے کہ وہ اونچا آدمی ہے۔ اسی سے گھمنڈ کا جذبہ ابھرتا ہے اور انسانوں کے درمیان مصنوعی اونچ نیچ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

مگر روحانی آدمی مادی چیزوں کو دوسرے درجہ کی چیز سمجھتا ہے۔ وہ ان کو اپنا خادم سمجھتا ہے نہ کہ اپنا آقا۔ اس بنا پر وہ مذکورہ قسم کی نفسیات سے بچا رہتا ہے۔ نہ مادی سامان زیادہ ہونے کی بنا پر وہ اپنے کو اونچا سمجھتا۔ اور نہ ایسا ہوتا کہ جس کے پاس مادی چیزوں کی کمی ہو اس کو وہ حقیر اور نیچا سمجھتے لگے۔ روحانیت آدمی کو اپنے لئے بھی بہتر بنا دیتی ہے اور دوسروں کے لئے بھی۔

نوٹ: ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۴ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کیا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page