ترجمہ
الرسالہ، اگست ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷
نے اس کو قتل کر دیا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ پہلا سود جو باطل کیا جائے وہ عباس ابن عبد المطلب کا سود ہے ۔ تمہارے لیے تمہارا راس المال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تمہارے اوپر کوئی ظلم کیا جائے۔ سنو، زمانہ گھوم گیا (پس وہ آج) اسی نقطہ پر ہے جس دن کہ خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: خدا کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، خدا کی کتاب میں، جس دن کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔ سنو، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔ سنو ، شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن آپس میں تم کو برانگیختہ کر کے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا ۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔ کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے اور ان کے اوپر تمہارا حق ہے، یہ کہ تمہارے بستر پر وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہ آنے دیں اور نہ ایسے شخص کو تمہارے گھر میں آنے دیں جس کو تم نا پسند کرتے ہو۔ پھر اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ محسوس کرو تو ان کو نصیحت کرو۔ اور ان کو خواب گاہوں میں چھوڑ دو۔ اور ان کو ہلکی مار مارو۔ اور انہیں معروف طریقے پر کھانے اور کپڑے کا حق ہے۔ تم نے ان کو خدا کی امانت کے طور پر لیا ہے ۔ اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے ۔ سنو، جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحب امانت کو واپس کر دے ۔ اس کے بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا، کیا میں نے پہنچا دیا، کیا میں نے پہنچا دیا۔ پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچا دے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہنچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں ۔ (مسند احمد)
‹ Previous page Next page › Contents of August 1985 All issues