Al-Risala · September 1985 · page 6

منفی ذہن

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۶

منفی ذہن

لینن (۱۹۲۴ - ۱۸۷۰) کا ابتدائی گھر یلو نام ولاد میر ایلچ الیا نوف تھا۔ بعد کو وہ لینن کے انقلابی نام سے مشہور ہوا۔ لینن ایک ایسے گھر میں پیدا ہوا جو سیاسی انتہا پسندی کا مزاج رکھتا تھا۔ لینن کے بڑے بھائی الگزینڈر نے روس کے بادشاہ زار کو قتل کرنے کی ایک سازش میں حصہ لیا تھا۔ مگر یہ سازش ناکام ہوئی اور لینن کے بھائی کو ۱۸۸۷ء میں پھانسی دے دی گئی۔ اس کے بعد لینن کا پورا خاندان مسلسل زار کی پولیس کے عتاب کا شکار رہا۔

محبوب بھائی کی پھانسی کا واقعہ لینن کے خون کو گرم کئے ہوئے تھا۔ زار سے نفرت اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی۔ تاہم بھائی کے انجام کو دیکھ کر اس نے جان لیا تھا کہ شہنشاہ روس کو قتل کرنے کی انفرادی کوشش بے فائدہ ہے کوئی اجتماعی اور تنظیمی طاقت ہی اس کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ اور کارل مارکس کے نظریات کی صورت میں اس کو اپنی طلب کا جواب مل گیا۔

100 Great Modern Lives, by John Canning, Century Books Ltd., London, 1972, p. 349 یونیورسٹی کی تعلیم کے زمانہ میں لینن کو یہ موقع ملا کہ وہ کارل مارکس کے خیالات سے آگاہ ہو۔ اس کے بعد وہ مزید تعلیم کے لئے جنیوا گیا۔ وہاں اس کو کافی سوشلسٹ لٹریچر ملا۔ طبعی طور پر مارکس کے خیالات میں لینن کو بے حد دل چسپی ہوئی۔ مارکس کا فلسفہ نہ صرف لینن کے قابل نفرت دشمن ( زار ) کو پوری طرح غلط ثابت کر رہا تھا بلکہ وہ اس پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کا جواز فراہم کر رہا تھا جس میں زار کو بڑائی کا مقام حاصل تھا۔ لینن کو مارکسی سوشلزم میں زار کے خلاف سیاست کے لئے فکری بنیاد مل رہی تھی۔ چنانچہ اس نے دل و جان سے اس کو قبول کر لیا۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی ذاتی نفرت کے تحت عمل کرتا ہے مگر وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محبت انسانی یا اطاعت خداوندی کے لئے متحرک ہوا ہے۔ آدمی کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔ وہ باہر سے ایک طرح کا انسان دکھائی دیتا ہے اور اندر سے بالکل دوسری طرح کا انسان ہوتا ہے۔ اس کا فکر محض رد عمل ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس کا فکرہ مثبت طور پر بنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1985 All issues

Printed page